انوارالعلوم (جلد 22) — Page 40
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۰ اقرار کرو کہ تم ہمیشہ سچ بولو گے نہیں چاہتے تو تم خود یا تمہارا وکیل عدالت میں یہ کہہ سکتا ہے کہ قانوناً ایسا سوال جائز نہیں لیکن جب حج یہ فیصلہ کر دے کہ ایسا سوال قانونا جائز ہے تو وہاں سچ بولنا ضروری ہوتا ہے۔ذاتی معاملات میں ضروری نہیں کہ تم سچ بولو تم کہہ سکتے ہو کہ میں یہ بات بتانا نہیں چاہتا۔غرض سچ بولنے کے یہ معنے نہیں کہ تم ہر بات بیان کرو۔سچ بولنے کے یہ معنی ہیں کہ جہاں سچ بولنا چاہئے وہاں سچ بولو۔یا جہاں قرآن کریم اور قانون تمہیں سچ بولنے پر مجبور کرتے ہیں وہاں سچ بولو۔اب میں تم سب سے یہ عہد لیتا ہوں کہ خواہ کیسے بھی حالات ہوں تم سچ بولو۔تم سب کھڑے ہو جاؤ۔کیونکہ بیٹھے ہوئے آواز زور سے نہیں نکلتی لیکن میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر تم ظاہری طور پر یہ عہد کر لیتے ہو کہ تم ہمیشہ سچ بولو گے لیکن دل سے تم اس کا عہد نہیں کرتے تو تمہارا یہ پہلا جھوٹ ہوگا۔کیا خدام الاحمدیہ اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ خواہ کیسے ہی خطرناک حالات ہوں یا انہیں کیسی ہی مشکلات میں سے گزرنا پڑے وہ قرآن کریم کی ہدایات اور اس کی شرائط کے مطابق ہمیشہ سچ بولیں گے۔“ سب خدام نے بیک آواز کہا۔اِنی وَاللهِ ! حضور نے یہ الفاظ تین بار دہرائے سب خدام نے ہر بار بیک آواز ای واللہ کہہ کر اقرار کیا)۔ا النساء: ١٣٦ (رساله خالد ر بوه اکتوبر ۱۹۶۲ء)