انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 620

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۲۰ سیر روحانی (۶) آپ سر سے پاؤں تک لہولہان ہو گئے اسے مگر ان تمام تکالیف کے باوجود آپ جس پیغام کو لیکر کھڑے ہوئے تھے اُسے اُٹھتے بیٹھتے ، سوتے اور جاگتے آپ نے لوگوں تک پہنچایا اور ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کے پائے ثبات میں جنبش نہیں آئی۔سخاوت آپ کے اندر اس قدر پائی جاتی تھی کہ اگر آپ سے کوئی چیز مانگی سخاوت جاتی اور وہ آپ کے پاس موجود ہوتی تو آپ اس کے دینے میں کبھی دریغ نہ فرماتے اور یہ سخاوت عمر بھر آپ کا معمول رہی مگر صحابہ کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے ایام آتے تو اُن دنوں آپ کی سخاوت کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسعت اختیار کر لیتا ۱۳۲ اسی سخاوت کا یہ نتیجہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ کے گھر میں کوئی درہم اور دینار موجود نہیں تھا حالانکہ آپ اُس وقت عرب کے بادشاہ بن چکے تھے۔حیا آپ کے اندر اسقدر پایا جاتا تھا کہ صحابہ کہتے ہیں آپ ایک کنواری لڑکی رحم دلی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔۱۳۳ رحم آپ کے اندر اس قدر پایا جاتا تھا کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص رحم نہیں کرتا اللہ تعالے کی طرف سے بھی اُس پر رحم نہیں کیا جا تا ۱۳۴، آپ کا ایک نواسہ ایک دفعہ بیمار ہوا اور اُس کی حالت نازک ہو گئی۔آپ کی بیٹی نے آپ کی طرف پیغام بھیجا، آپ تشریف لائے اور بچے کو دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ایک صحابی کہنے لگے یا رَسُولَ الله ! آپ بھی روتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے سخت دل نہیں بنایا۔۱۳۵ عدل و انصاف انصاف آپ کے اندر اس قدر پایا جاتا تھا کہ ایک دفعہ کسی بڑے خاندان کی عورت نے چوری کی اور وہ پکڑی گئی اس پر بعض لوگوں نے چاہا کہ اسکے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی جائے کہ اسے کوئی سزا نہ دی جائے کیونکہ یہ بڑے خاندان کی عورت ہے اس غرض کے لئے انہوں نے حضرت اسامہ کو تیار کیا۔اسامہ نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق سفارش کی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس قسم کا جرم کرے تو میں اُسکے بھی ہاتھ کاٹ دوں۔۱۳۶)