انوارالعلوم (جلد 22) — Page 608
انوار العلوم جلد ۲۲ ٦٠٨ سیر روحانی (۶) ہم یقینا انہیں اپنی بارگاہ تک پہنچنے کے راستے بتا دیتے ہیں ۔ اے پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی عظمت اور اُس کے جاہ وجلال کو بھی قائم کیا اور بنی نوع انسان کو بھی اس امر کا یقین دلایا کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب بن سکتے ہیں ۔ - ملائكة اللہ اسی طرح ملائکہ بھی ایک مخفی وجود ہیں جن کی حقیقت کا علم بغیر کسی ایسے انسان کی راہنمائی کے حاصل نہیں ہو سکتا جسے خدا خود اپنے غیب سے حصّہ دے اور بتائے کہ ملائکہ کی کیا حقیقت ہے ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد چونکہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت آیات کا کام کیا تھا اس لئے آپ نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کے ماتحت ان کے متعلق بھی بنی نوع انسان کی صحیح راہنمائی فرمائی اور بتایا کہ ملائکہ نظام عالم کے روحانی اور جسمانی سلسلہ کی اُسی طرح ایک اہم کڑی ہیں جس طرح دوسرے نظر آنے والے اسباب مادی دنیا میں مختلف کاموں کی کڑیاں ہیں ۔ وہ صرف خدائی دربار کی رونق کا سامان نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے تکوینی احکام کی پہلی کڑی ہیں اور ان کے بغیر اس کا ئنات کا وجود ادھورا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ اسی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کچھ تو وہ ملائکہ ہیں جو عرش کو اُٹھائے ہوئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عرش کے ارد گرد رہتے ہیں ۱۷ یعنی ایک تو وہ فرشتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے ہیں اور جن کے ذریعہ دنیا میں احکام الہیہ کا اجراء ہوتا ہے اور ایک وہ ہیں جو اُن احکام کو نچلے طبقہ تک لے جانے والے ہیں پس ملائکہ کا وجود اس عالم کا ایک اہم ضروری حصہ ہے ۔ رسالت اور کلام الہی کی ضرورت آپ نے کی ضرورت آپ نے رسالت اور کلام الہی کی ضرورت کو بھی واضح کیا اور بتایا کہ جس طرح مادی دنیا میں خدا تعالیٰ نے صرف آنکھ پیدا نہیں کی بلکہ لاکھوں میل کے فاصلہ پر ایک سورج بھی پیدا کر دیا ہے تا کہ آنکھ اس کی روشنی سے فائدہ اُٹھائے اسی طرح روحانی ایک سوچ بھی پیدا کر دیا ہے عالم میں بھی خدا تعالیٰ نے سورج اور چاند اور ستارے بنائے ہیں ۔ جو شخص روحانی دنیا