انوارالعلوم (جلد 22) — Page 585
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۵ سیر روحانی (۶) تمہارا بیٹا ہے اور کون۔وہ کہنے لگے واہ ! ابو قحافہ کے بیٹے کو عرب اپنا بادشاہ مان لیں یہ کیسے ہوسکتا ہے تو بھی عجیب باتیں کرتا ہے۔غرض ابو قحافہ کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے متعلق یہ مان ہی نہیں سکتے تھے کہ سارا عرب اُنہیں بادشاہ تسلیم کرلے گا مگر اسلام کی خدمت اور دین کے لئے قربانیاں کرنے کی وجہ سے آج حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جو عظمت حاصل ہے وہ دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں آج دنیا کے بادشاہوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں جسے اتنی عظمت حاصل ہو جتنی حضرت ابو بکر کو حاصل ہے بلکہ حضرت ابو بکر تو الگ رہے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو اتنی عظمت حاصل نہیں جتنی مسلمانوں کے نزدیک ابو بکر کے نوکروں کو حاصل ہے اس لئے کہ اُس نے ہمارے رب کے دروازہ پر سجدہ کیا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در کا غلام ہو گیا اب یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص اس عظمت کو ہمارے دلوں سے محو کر سکے اور اُس خطاب کو چھین سکے جو اس نے اپنے دربار میں صحابہ کرام کو دیا۔آج صحابہ کے زمانہ پر تیرہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر آج بھی وہ خطاب جو خدا نے اُن کو دیا تھا قائم ہے اور رہتی دنیا تک قائم رہیگا۔رقابت اور عناد سے پاک دربار پھر ڈ نیوی بادشاہوں کے دیوان خاص میں باریاب ہونے والوں کو خطابات ملتے ہیں تو باہم رقابت اور دشمنی اور لڑائی شروع ہو جاتی ہے لیکن اس دیوانِ خاص میں شریک ہونے والوں کے دلوں میں کوئی رقابت، کوئی دشمنی اور کوئی لڑائی نہیں ہوتی بلکہ ان کے دل ایک دوسرے کی محبت اور پیار کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں فرماتا ہے۔والذين جاء مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بالايمان ولا تَجْعَل في قُلُوبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رحیم ۵ ۵۵ یعنی بعد میں آنے والے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو ہمیں بھی بخش اور ہمارے اُن بھائیوں کو بھی بخش جو ہم سے ایمان لانے میں سبقت اختیار کر چکے ہیں اور ہمارے دلوں کو اُن کے متعلق ہر قسم کے کینہ اور