انوارالعلوم (جلد 22) — Page 563
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۶۳ سیر روحانی (۶) دیکھا کہ بادشاہ خود ہی سب علاج بتاتا ہے اور خود ہی سب کچھ مہیا کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور پھر ہر وعدہ کو وہ پورا بھی کرتا ہے۔چنانچہ میں نے قرآنی در بار خاص کا مطالعہ کیا تو مجھے عجیب حسن نظر آیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے دیکھا کہ بادشاہ جب وزراء اور افسر مقرر کرتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ وہ کی حفاظت خاص کا وعد بادشاہ اور اس کے خاندان کی حفاظت کرینگے مگر میں نے اس دربارِ خاص کا یہ طریق دیکھا کہ جب اس دربار میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گورنر جنرل مقرر کیا گیا تو ساتھ ہی کہدیا گیا کہ یايُّهَا الرَّسُولُ بلغ ما أنزل إليكَ مِن رَّبِّكَ، وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَغْتَ رِسَلَتَهُ، وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ، إِنَّ اللهَ لا يَهْدِى الْقَوْمَ الكفرين ۵۸ یعنی اے ہمارے رسول ! ہم نے تیری طرف جو کچھ نازل کیا ہے تو اسے لوگوں تک پہنچا دے اور اگر تو ایسا نہیں کریگا تو تیری رسالت کا کام نا تمام رہے گا بیشک اس کام میں تجھے مشکلات پیش آئیں گی ، اپنے اور بیگانے تیری مخالفت میں کھڑے ہو جا ئینگے اور وہ کوشش کرینگے کہ تجھے کچل کر رکھ دیں اور تیرے نام کو صفحہ ہستی سے معدوم کر دیں مگر خدا اُن کو نا کام کریگا اور وہ تجھے لوگوں کے تمام حملوں سے محفوظ رکھے گا۔یہ کیسا دیوانِ خاص“ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات الگ بھی کی جاتی ہے اور پھر دیوانِ عام میں سُنانے کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس اعلان کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچے تو ہم ذمہ دار ہیں۔دشمنوں کی عبرت ناک ناکامی کا مرقع دنیا نے اس اعلان کو سنا تو وہ حقارت کے ساتھ ہنسی اور اُس نے سمجھا کہ وہ اپنی کوششوں سے اس گورنر جنرل کے غلبہ اور اقتدار کو روک سکے گی اور اسے تباہ و برباد کر دیگی مگر واقعات بتاتے ہیں کہ دشمنوں کی ہر تد بیر نا کام ہوئی اور خدا تعالیٰ کی حفاظت ہمیشہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شامل حال رہی۔