انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 564

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۶۴ سیر روحانی (۶) حضرت عمرؓ کا ارادہ قتل چنا نچہ دیکھ لو جب مکہ میں اسلام نے ترقی کرنی شروع کی اور کفار کی تمام تدابیر کے باوجود مسلمانوں کی تعداد میں زیادتی ہوتی چلی گئی تو حضرت عمرؓ جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے انہوں نے جوش میں آکر ایک دن تلوار ہاتھ میں لی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور جاتے ہوئے کہہ گئے کہ اچھا میں خود ہی اس روز روز کے جھگڑے کو ختم کئے دیتا ہوں۔ابھی وہ گھر سے تھوڑی دُور ہی گئے تھے کہ انہیں راستہ میں اپنا ایک دوست ملا اُس نے پوچھا عمر ! اتنے جوش میں تلوار نگی لٹکائے کہاں جا رہے ہو؟ عمر نے کہا آج میں نے ارادہ کیا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا سر لے کر ہی واپس لوٹوں گا تا کہ یہ روز روز کے جھگڑے ختم ہو جائیں۔اُس دوست نے کہا عمر ! تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارنے جا رہے ہو پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔عمر نے کہا میرے گھر میں کیا ہوا ہے؟ دوست نے کہا تمہاری بہن اور تمہارا بہنوئی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دین میں داخل ہو چکے ہیں۔یہ سُن کر حضرت عمرؓ نے بڑے غصہ میں اپنی بہن کے گھر کا راستہ لیا جب گھر کے قریب پہنچے تو انہیں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سُنائی دی۔قرآن کریم پڑھنے کی آواز سُن کر انہیں اور بھی جوش آیا اور جھٹ دروازہ کے اندر داخل ہو گئے۔ان کی آہٹ پاکر حضرت خباب جو ایک حبشی غلام تھے اور وہی اس وقت عمر کی بہن اور بہنوئی کو قرآن پڑھا رہے تھے کہیں چھپ گئے اور اُن کی بہن نے قرآن کریم کے اوراق ادھر اُدھر چھپا دیئے۔حضرت عمرؓ نے اندر آتے ہی نہایت جوش اور غصہ کے ساتھ کہا بہنوئی پر حملہ میں نے سنا ہے تم دونوں اپنے دین سے پھر گئے ہو اور تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی اختیار کر لی ہے!! یہ کہتے ہی وہ اپنے بہنوئی پر جھپٹ پڑے اور انہیں مارنا شروع کر دیا۔یہ دیکھ کر اُن کی بہن اپنے خاوند کو بچانے کے لئے آگے بڑھی مگر حضرت عمرؓ کا ہاتھ جو اُٹھ چکا تھا اُسے روکنا مشکل تھا چنانچہ ایک مکہ ان کی بہن کو بھی جا لگا اور اُن کے جسم میں سے خون بہنے لگا۔