انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 549

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۴۹ سیر روحانی (۶) جانوروں کے متعلق لوگ سمجھتے تھے کہ وہ حقیر اور ذلیل چیز ہیں اور ان کے احساسات کا خیال رکھنے کی ضرورت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو محض اس لئے عذاب دیا گیا کہ اُس نے بلی کو باندھ رکھا اور اُسے کھانے پینے کو کچھ نہ دیا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مرگئی پس اُسے دوزخ میں داخل کیا گیا۔۴۳ اور فرمایا ایک عورت کو اس لئے جنت میں داخل کیا گیا کہ اس نے ایک گتے کو جو پیاسا تھا وہ اپنا جوتا لے کے کنویں میں اُتری اور اس میں پانی بھر کر اُسے پلایا اس وجہ سے خدا نے ایسے جنت میں داخل کر دیا۔۴۴ یہ تعلیم بتا رہی ہے کہ رسول کریم ہر حصہ زندگی سے تعذیب کا اخراج مصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا سے کس طرح عذاب کو مٹایا گیا اور عذاب دینے کو بُرا اور ناپسند قرار دیا گیا حالانکہ اس سے پہلے یہ باتیں ضروری سمجھی جاتی تھیں۔وہاں روحانیت کی ترقی کے لئے لوگ اپنے جسم پر کوڑے مارتے تھے اور یہاں ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر آئے تو آپ نے دیکھا کہ ایک رستی لٹکی ہوئی ہے آپ نے اپنی بیوی سے پوچھا یہ رشی کس لئے لڑکائی ہے؟ اس نے کہا یا رَسُول اللہ ! جب میں عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہوں تو رسی پکڑ لیتی ہوں تا کہ مجھے نیند نہ آئے۔آپ نے فرمایا خدا کو تمہارے نفس کو تکلیف میں ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں جب تک تمہارا نفس برداشت کر سکتا ہو عبادت کرو اور جب نہ کرے نہ کر و ۴۵ تو دیکھو تعذیب کو کس طرح ہر حصہ و زندگی سے مٹا دیا گیا ہے۔پس فرماتا ہے وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دنیا میں روحانیت کی ترقی کے لئے غلط معیار قائم ہو گئے ہیں لوگ کہتے ہیں روحانیت کی ترقی اور نفوس کی اصلاح کے لئے ہیجڑے بن جاؤ ، پلاؤ کے اندر مٹی ملاؤ یا اس میں تیل ملاؤ یا سردیوں میں اُلٹے لٹک جاؤ، گرمیوں میں آگ کے سامنے بیٹھو یہ سب لغو باتیں ہیں ہم ان کو منسوخ کرتے ہیں خدا کو ان غلاظتوں اور تکلیفوں سے کوئی تعلق نہیں۔خدا تو تم کو آرام پہنچانا چاہتا ہے خدا تم کو عذاب میں نہیں ڈالنا چاہتا۔خدا نے اپنے تک پہنچنے کے راستے اور قسم کے بنائے ہیں جن سے بغیر نفس کی ذلت کے ، بغیر کسی نفس کو توڑ دینے کے، بغیر جذبات کو مار دینے کے خدا