انوارالعلوم (جلد 22) — Page 29
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹ سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو کے فکر ، عقل اور جذبات کا ایک حصہ بن جائے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک سفید رنگ کا آدمی کا لا کپڑا اوڑھ لے۔اب وہ کالا کپڑا اوڑھ لینے سے کالا نہیں بن جاتا ہاں وہ دور سے ایک کالی چیز نظر آتا ہے۔لیکن ایک کالے رنگ کا آدمی ہو تو جہاں تک جلد کا تعلق ہوتا ہے وہ اندر سے بھی کالا ہوتا ہے اور باہر سے بھی کالا ہوتا ہے۔یا مثلاً سیا ہی جسم پر مل لینے کی وجہ سے کوئی شخص کالا نہیں ہو جاتا وہ تو صرف کوٹنگ COATINQ) ہوگی یہ عقیدہ کی مثال ہے۔لیکن ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چیز واقع میں سیاہ ہو، کوئی چیز واقع میں سفید ہو، کوئی چیز واقع میں سرخ ہو، کوئی چیز واقع میں زرد رنگ کی ہو۔غرض احمدیت میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے جو چیز اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے وہ ایمان ہے۔عقیدہ اس کا ایک حصہ ہے یعنی ایمان دو چیزوں کا نام ہے اور وہ عقیدہ اور قوت محرکہ ہیں۔اور عقیدہ ایک چیز کا نام ہے یعنی کسی چیز کو سچا سمجھنا۔پھر ایک شخص میں کام کا جوش ہوتا ہے ایک میں نہیں یعنی عقیدہ اور قوت محرکہ الگ الگ بھی پائی جاتی ہیں۔ہزاروں ہزار آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جو عقیدہ رکھتے ہیں لیکن ان میں قوت محرکہ نہیں پائی جاتی۔اسی طرح ہزاروں ہزار آدمی ایسے ہوتے ہیں جن میں عقیدہ پایا جاتا صرف قوت محرکہ پائی جاتی ہے۔وہ کام کرتے ہیں لیکن کوئی مقصد اپنے سامنے نہیں رکھتے۔گویا عقیدہ مقصد پر دلالت کرتا ہے اور ایمان مقصد اور اس کے مطابق عمل پر دلالت کرتا ہے۔دنیا میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو مقصد رکھتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے اور دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو عمل کرتے ہیں لیکن کوئی مقصد نہیں رکھتے۔لیکن مومن وہ ہے جو مقصد اور عمل دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔دوسری چیز جو احمدیت میں داخل ہو کر انسان کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے وہ عمل ہے۔ایمان کے بعد عمل کا مقام آتا ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں قوت محرکہ عمل میں آجاتی ہے۔مثلاً بیلنا ہے۔بلینے میں اگر گنا ڈالا جائے جو قوت محرکہ کا قائم مقام ہے اور پھر بیلنا کی حرکت کرے تو اس سے رس ٹپکنے لگتی ہے۔اسی طرح انسان کے اندر جب عقیدہ پیدا ہوتا ہے۔اور قوت محرکہ بھی پیدا ہوتی ہے تو قوت محرکہ مقصد کے ساتھ مل کر رس پیدا