انوارالعلوم (جلد 22) — Page 28
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۸ سچا ایمان ، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو پہلے جاتے ہیں اور ان سے رس نکالا جاتا ہے۔خالی بیلنا مفید نہیں ہو سکتا۔اگر بیلنے لگا دیئے جائیں اور ان کو خالی چلاتے رہیں تو ملک کو نہ رس ملے گا اور نہ شکر۔بیلینے سے رس اُس وقت پیدا ہوگی جب اُس میں گنے ڈالے جائیں گے اور پھر اُس رس سے شکر بنائی جائے گی۔پس کلمہ کے الفاظ پر خالی یقین کر لینے کی مثال آپ وہ بیلنا سمجھ لیں جس میں گنے نہ ڈالے جائیں۔اور قوت محرکہ ایسی ہی ہے جیسے بہلنے میں گئے ڈال کر اُسے حرکت دی جاتی ہے۔جس طرح بلینے کے اندر ایک ایسی مشین ہے جو گنے کو حرکت دیتی ہے اور اُس سے رس نکلتی ہے اسی طرح عقیدہ کے اندر جب تک قوت محرکہ نہ پائی جائے اس سے کوئی فائدہ نی حاصل نہیں ہوتا۔کلمہ کے الفاظ کو خالی ماننا کوئی مفید چیز نہیں۔کلمہ کے الفاظ کو اس حد تک مانای اہئے کہ وہ انسان کے اندر حرکت کر کے نئے اعمال پیدا کر دے اور اُسی وقت اسے ایمان کہتے ہیں۔اس سے پہلے وہ صرف عقیدہ ہے ایمان نہیں۔عقیدہ کا لفظ عربی میں اس بات کو کہتے ہیں جس کو ہم مانتے ہیں۔ایمان کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب ہم اس سے فائدہ حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ایمان کے معنی ہیں امن دینا ، فائدہ اور راحت دینا۔اور یہ ظاہر ہے کہ محض عقیدہ سے دنیا میں امن قائم نہیں ہوتا۔دنیا میں امن اُن اعمال سے پیدا ہوتا ہے جو ہم عقیدہ کے نتیجہ میں بجا لاتے ہیں۔گویا ایمان ، عقیدہ اور قوت محرکہ کے مجموعہ کا نام ہے۔جب عقیدہ اتنا پختہ ہو جاتا ہے که انسان اپنے اندر اُس کے ذریعہ تبدیلی پیدا کرے تو اُس کو مومن کہتے ہیں۔جہاں تک عقیدہ کا سوال ہے دنیا میں ہزاروں ہزار ان پڑھ لوگ بھی ایسے ملیں گے جو کہیں گے کہ اللہ ایک ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔گاؤں کی ایک بڑھیا عورت سے بھی پوچھو وہ کہے گی یہ بات سچ ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کے رسول ہیں۔بعض اوقات یہ لوگ مر بھی جائیں گے مگر یہی کہیں گے کہ یہ بات سچ ہے لیکن باوجود اس کے وہ اسلام کی اشاعت کے لئے کوئی فکر اور کوئی تدبیر نہیں کر رہے ہوتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر عقیدہ تو ہوتا ہے ایمان نہیں ہوتا۔وہ یہ تو مانتے ہیں کہ خدا ایک ہے اور محمد اُس کے رسول ہیں لیکن یہ ماننے کا مقام اتنا ترقی نہیں کرتا کہ یہ بات ان