انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 522

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۲۲ سیر روحانی (۶) کے اندر خدا کا خوف نہیں ، جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ، جن کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں حالانکہ یہی باتیں انسان کی پیدائش کا مقصد ہیں وہ آدمی کہاں ہیں۔اب آدمی وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے کیونکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولا د میں سے ہے ، باقی صرف جانوروں کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ خدا سے دُور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی جو آدم کا نام دیا گیا ہے وہ بھی اسی لئے ہے کہ کو آدم قرار دینے میں حکمت آپ کو خدا تعالی کی طرف سے طائم الخلفاء قرار دیا گیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اب جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنا چاہے اُس کے لئے آپ کی غلامی اختیار کرنا ضروری ہے۔جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص خدا تک پہنچنا چاہے تو وہ نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے کیونکہ اب وہی نسل سمجھی جاتی ہے باقیوں کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہیں ہی نہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد وہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے متبع سمجھے جائیں گے جو مسیح موعود کو مانتے ہیں اسی لئے آپ کا نام بھی آدم رکھا گیا۔بہر حال ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں اور میرے ساتھ بہت بڑے واقعات وابستہ ہیں۔میں عالم روحانی کی مکمل سکیم کے ماتحت پیدا کیا گیا ہوں اور جب دربارِ خاص میں فرشتے بحث کر رہے تھے تو میں اُس وقت موجود نہ تھا۔اس دربار میں مجھے چُنا گیا اور آسمانی بادشاہت کے دشمنوں کے خلاف مجھے نذیر یعنی کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا۔ملا اعلیٰ کے فرائض ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سعید روحوں کے اثرات آسمان پر جمع ہونے شروع ہوتے ہیں اور الہی احکام کے نازل ہونے سے پہلے ملائکہ بھی فطرتاً ایک معتین وجود کی طرف مائل ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے دعا کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے ہدایت کے کام کو آسان