انوارالعلوم (جلد 22) — Page 521
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۲۱ سیر روحانی (۶) مِنَ الْمُتَكَفِينَ یعنی خدا نے کہا اور میں مقرر ہو گیا۔میں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں۔اگر ابوالبشر آدم کا یہاں ذکر ہوتا تو آدم کو کہنا چاہئے تھا کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے مگر بنایا آدم کو اور کہہ رہے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ان دونوں کا آپس میں جوڑ کیا ہوا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آدم سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔در حقیقت قرآن کریم میں آدم قرآنی اصطلاح میں آدم سے مراد کا جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ خالی ایک نام نہیں بلکہ آدم ایک عہدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کیا جاتا ہے۔اس عہدہ کے لحاظ سے جو آدمی بھی اس پر مقرر ہو جائے وہ آدم کہلاتا ہے اور قرآن کریم کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہدہ اُس شخص کو دیا جاتا ہے جس سے کسی چیز کی ابتداء ہو۔جب کوئی ایسا سلسلہ قائم کیا جائے کہ جس نے قیامت تک جاری رہنا ہو اور اس سے متواتر تنوع پیدا ہونا ہو اور نئی نسلیں پیدا ہونی ہوں تو اُس کا نام آدم رکھا جاتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدم اول دور بشری کا آدم تھا جس سے نسلِ انسانی چلی اور کروڑوں کروڑ آدمی اس بھی ایک عظیم الشان آدم ہیں دنیا میں پھیل گئے۔اس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک آدم تھے جن سے ایک روحانی نسل کا آغاز ہوا۔جس طرح آدم کے پیدا ہونے کے بعد جن اور بھوت وغیرہ سب غائب ہو گئے اور انسانی نسل چل پڑی اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کے بعد پہلے سارے نبیوں کی نسلیں ختم ہو گئیں اور وہ بے اولاد ہو گئے گویا بعینہ اسی طرح ہو ا جس طرح وہاں ہوا تھا۔جس طرح وہاں صرف آدم کی نسل چلی اسی طرح یہاں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی نسل چلی اور باقی نسلیں منقطع ہو گئیں۔ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ کس طرح درست ہو سکتا ہے آدمی تو دنیا میں کروڑوں کروڑ پھرتے ہیں ، ان کی نسلیں منقطع کس طرح ہوئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی وہ ہوتے ہیں جو زندہ ہوں۔جن کے اندر روحانیت نہیں ، جن