انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 520

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۲۰ سیر روحانی (۶) رجِيمُ وَإِن عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلَى يَوْمِ الدّينِ قَالَ رَبِّ فَانْظُرْنَ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ إلى يَوْمِ الوقت المَعْلُومِ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لأُغْوِيَنَّهُمْ أجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ قَالَ فَالْحَقُّ وَ الْحَقِّ أَقُولُ لَا مَلَنَ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ قُل مَّا اسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍةٌ مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلّفين إن هُوَ إِلَّا ذكر للعلمينَ وَلَتَعْلَمُنَّ نَبا بَعْدَ حِيين ١٠ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جگہ پھر ایک آدم کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے مگر جیسا کہ سیاق وسباق بعثت عظمی کا دربار خاص میں اعلان سے ظاہر ہے یہ آیات قطعی طور پر ثابت کرتی ہیں کہ یہاں وہ آدم مراد نہیں جس سے نسل بشر کا آغاز ہو ا بلکہ اس جگہ آدم سے مرا دمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے چنانچہ دیکھو ان آیات کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرُ وَ مَا مِن الهِ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ - تو ان سے کہہ دے کہ میں خدا کی طرف سے ایک تنبیہہ کرنے والے کی حیثیت سے آیا ہوں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ واحد اور قہار ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے وہ آسمان اور زمین کا رب ہے اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان کا بھی رب ہے اور وہ بڑا غالب اور بخشنے والا ہے۔تو کہہ دے کہ یہ ایک عظیم الشان چیز ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو اور مجھے کیا خبر ہے کہ فرشتے آسمان پر کس کے تقرر کے بارہ میں بخشیں کر رہے تھے مجھے آسمان سے وحی آ گئی اور پتہ لگ گیا کہ میں خدا کی طرف سے نذیر ہوں۔دیکھو! جب خدا نے فرشتوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ میں ایک بہت بڑے انسان کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کو پیدا کرلوں اور وہ اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جائے اور کلامِ الہی اس پر نازل ہو جائے تو تم فوراً اُس کی مدد کر نے لگ جاؤ۔اب دیکھو یہاں کسی پہلے آدم کا یا پیدائش عام کا ذکر نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ان کی بعثت کا ذکر ہے اور پھر جہاں یہ ذکر ختم ہوتا ہے وہاں بھی ان باتوں کو بیان کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قُل مَّا اسْلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَ مَا أَنَا