انوارالعلوم (جلد 22) — Page 512
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۱۲ سیر روحانی (۶) آئے اور انہوں نے تو بہ قبول کی اور انہیں اپنے شاگردوں میں شامل کیا اور اب وہ مسلمانوں کے بڑے بڑے اولیاء میں سے سمجھے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے عطیہ کی بے حرمتی تو دیکھو! شبلی کو کس بات سے ہدایت ملی ؟ اس بات سے کہ خدا نے ہم کو کیا کچھ دیا ہے جس کو ہم گندہ اور نا پاک کر رہے ہیں مگر بادشاہ اس دربارِ خاص میں چند گز ریشم کا ٹکڑا چند سنہری تاگے لگے ہوئے یا چند موتی اور ہیرے جڑے ہوئے دیتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ لوگ خود چاہیں تو اس سے بہتر خلعت بنا سکتے ہیں مگر اس لئے کہ ان کی ہتک ہو گئی وہ انہیں ذلیل کر دیتا ہے۔غرض ان خدمات کے بدلہ میں جو کچھ ملتا تھا وہ اتنا حقیر ہوتا تھا کہ اس کا خیال کر کے بھی انسان حیران ہو جاتا ہے کہ کیا انسان اتنا بھی ذلیل ہو جاتا ہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے دوڑتا پھرے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات ملتے ہیں ان میں یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ کبھی واپس نہیں ہو سکتے اور جس کو انعام ملتا ہے اس کی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی ہتک کرے بلکہ وہ ہمیشہ اس کی عزت کرتا ہے۔دنیا میں کوئی ایک لاکھ بیس ہزار نبی اللہ تعالیٰ کے غیر متبدل انعامات جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے گزرا ہے ہے اور معلوم نہیں کتنی دنیا ئیں ہیں اور کتنے اور نبی ہوں گے۔درجنوں پیغمبروں کے حالات تو ہمیں بھی معلوم ہیں مگر کیا تم نے کبھی سُنا کہ فلاں وقت میں فلاں پیغمبر صاحب کے مستعفی ہونے کا وقت آ گیا اور انہیں کہا گیا کہ آپ اب استعفاء دیدیں؟ یا کبھی تم نے سُنا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی پر خفا ہو کر کہا کہ اُتار لو اس کا خلعت پیغمبری اور اُس نے اسے چھوڑ دیا ہو؟ اس دربار میں سے جس کو ملتا ہے ہمیشہ کے لئے ملتا ہے اور جس کو ملتا ہے اس کے دل میں اپنے اس عہد ہ کو اتنی عظمت ہوتی ہے اور اتنی قدر ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس کی قدر کرنے میں اس کی اس طرح مدد کرتا ہے کہ وہ اس عہد ہ کو کبھی نہیں چھوڑتا اور نہ اس کی ہتک کرتا ہے۔