انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 484

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۸۴ چشمہ ہدایت متشابہات کے معنے منسوخ کے نہیں پھر یہ تیسری قسم کی آیات کہاں سے آگئیں جن کو منسوخ کہا جاتا ہے۔عقل بھی یہی کہتی ہے کہ جو کتاب آخر زمانہ تک کے لئے ہو وہ لازماً کامل ہونی چاہئے اور جب کوئی کتاب کامل ہوگی تو لازماً وہ زندہ بھی رہے گی۔یہ کسی طرح ہوسکتا ہے که کامل کتاب نازل ہو اور پھر اُس کی برکات کا سلسلہ معدوم ہو جائے اور اُس کے پاکیزہ اثرات جاتے رہیں۔اسی طرح جو کتاب شفاء للنَّاسِ ہوگی وہ منسوخ ہونے کے شبہ سے گلیۂ پاک ہوگی۔میں تو سمجھتا ہوں قرآن کریم کو شفا مللناس اسی لئے کہا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں یہ غلط عقیدہ پیدا ہونے والا تھا کہ قرآن کریم کی کئی آیات منسوخ ہیں۔اللہ تعالیٰ اسے شفاء قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس میں کسی منسوخ آیت کے ہونے کا احتمال ہی نہیں ہو سکتا یہ کتاب تو علاج کے لئے نازل کی گئی ہے اور دوا میں اگر کسی قسم کی بھی غلط آمیزش کا شبہ ہو تو اُسے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ دیکھ لو وہی شخص جو کہتا ہے کہ قرآن میں کچھ آیتیں منسوخ ہیں اُسی سے پوچھو کہ کیا کسی جو شاندہ میں اگر تھوڑ اسا سنکھیا ملا ہو ا ہو تو تم اسے استعمال کر لو گے؟ وہ کبھی ایسے جو شاندہ کو نہیں پئے گا کیونکہ ڈرے گا کہ اگر اس میں سنکھیا ہوا تو میں مر جاؤں گا۔اسی طرح اگر قرآن میں کچھ منسوخ آیات بھی ہیں تو کسی نے عمل کیوں کرنا ہے وہ تو کہے گا معلوم نہیں یہ آیت منسوخ ہے یا وہ آیت منسوخ ہے پس شفاء للنَّاسِ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ انسان سب سے زیادہ دوا کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے احتیاط نہ کی تو علاج کرتے کرتے مر جاؤں گا۔پھر جب تم اپنے متعلق یہ احتیاط کرتے ہو کہ تمہاری دوا میں کوئی زہر نہ ملی ہوئی ہو تو جس کتاب کو خدا تعالیٰ نے لوگوں کی امراض روحانیہ کا نسخہ قرار دیا ہے اُس کے متعلق تم یہ عقیدہ کسی طرح رکھ سکتے ہو کہ اس میں غیر اجزاء بھی پڑے ہوئے ہیں اور پھر یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ سنکھیا ہے یا بیش ہے یا پارہ ہے یا کیا چیز ہے گویا بالکل ویسی ہی بات ہے جیسے کسی جو شاندہ میں کوئی زہر ملا دیا گیا ہوا ایسی صورت میں قرآن کا کیا اعتبا ر رہا۔پھر جس کتاب کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ وہ قیامت کے لئے ہے اُس کے متعلق