انوارالعلوم (جلد 22) — Page 477
انوار العلوم جلد ۲۲ چشمہ ہدایت اس کا قرآن کریم سے بھی ثبوت ملتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوله بالهدى و دينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلّه " خدا ہی ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجا ہے ہدایت دے کر اور دین حق دے کر۔تلوار دے کر اور ڈنڈا دے کر نہیں يُظْهِرَ عَلى الدِّينِ كُلّم تا کہ وہ سارے دینوں پر اُسے غالب کرے۔سارے ملکوں پر نہیں کیونکہ ملکوں پر قبضہ کر لینا کرئی بڑی بات نہیں ، بڑی بات یہی ہے کہ دلوں پر قبضہ ہو۔اب دیکھو اس آیت میں دہی چیز بیان کی گئی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا یہ مقصد نہیں کہ ایران کے تیل کے چشمے آزاد ہو جائیں ، مصر سے انگریزی فوجیں نکل جائیں ، شام اور فلسطین آزاد ہو جائیں یہ باتیں ہوں گی اور ضرور ہوں گی مگر بہر حال یہ ابتدائی چیزیں ہیں مسلمان اس کے لئے جدو جہد کر رہا ہے اور وہ ایک دن اپنی غلامی کا جامہ چاک چاک کر کے پھینک دے گا لیکن یہ آزادی اُس کا مقصد نہیں۔جب کسی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اُس کا ناک بھی پونچھتا ہے مگر اُس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ بچہ پیدا ہوتو میں اُس کا ناک پو نچھا کروں گا۔مقصد اُس کا یہی ہوتا ہے کہ وہ بڑا عالم فاضل ہو عقل بھی یہی کہتی ہے کہ چند ریاستوں پر کسی کا قبضہ کر لینا کوئی بڑی بات نہیں۔دلوں کو بدل دینا اور اُن کو فتح کر لینا بڑی بات ہے۔فرض کرو پاکستان کسی وقت اتنی طاقت پکڑ جائے کہ وہ حملہ کرے اور سارے امریکہ کو فتح کرلے اور امریکہ کے لوگ ہمیں ٹیکس دینے لگ جائیں لیکن امریکہ کا آدمی اسلام اور قرآن پر لعنتیں ڈالتا ہو تو یہ بڑی فتح ہو گی یا امریکہ آزاد رہے لیکن امریکہ کے ہر گھر میں رات کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر سونے والے لوگ پیدا ہو جائیں تو یہ بڑی بات ہوگی؟ پس عقل بھی یہی کہتی ہے کہ یہی مقصد سب سے بالا ہے۔یا مثلاً پاکستان کی ہندوستان سے کسی وقت لڑائی ہو جائے اور پاکستان ہندوستان کو فتح کر لے تو پھر بھی یہ کونسی فتح ہے۔پہلے بھی یہی کہا گیا تھا ہندوستان کو فتح کر لیا گیا لیکن پھر وہ فتح کس طرح۔