انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 473

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۷۳ چشمہ ہدایت خواہش ہوگی کہ وہ مرض دُور ہو جائے بلکہ ہماری دعا ہو گی کہ وہ مرض دُور ہو جائے لیکن اگر یہ مرض دُور ہو جائے تب بھی دنیا کی قوموں میں بیٹھتے وقت ایک مسلمان کی کیا پوزیشن ہو گی ؟ اگر ایران بھی آزاد ہو جائے ، اگر مصر کے مسائل بھی حل ہو جائیں ، اگر فلسطین اور شام اور لبنان بھی آزاد ہو جائیں، اگر سوڈان بھی آزاد ہو جائے ، اگر تمام اسلامی ممالک ے جھگڑے ختم ہو جائیں ، اُن کی طاقت بڑھ جائے ، اُن کا روپیہ زیادہ ہو جائے ، اُن کی عظمت ترقی کر جائے ، دولت اُن کے ہاتھ میں آجائے ، تمام تجارت جو اس وقت امریکہ کے پاس ہے ان پر اُن کا قبضہ ہو جائے پھر بھی ۱۲ آنے کے مقابلہ میں وہ چار آنے کے مالک رہتے ہیں اور جب ان کی حالت یہ ہوگی کہ چونی ان کے پاس ہوگی اور ۱۲ آنے غیر کے پاس ہوں گے تو اسلام کسی طرح غالب آیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کسی طرح قائم ہوئی۔غرض جو شخص بھی اس مسئلہ پر اس رنگ میں غور کرے گا اور عقل سے کام لے گا وہ بعثت محمدیہ کی یہ غرض قرار دیتا کہ سیاسی لحاظ سے ایران آزاد ہو جائے ، مصر آزاد ہو جائے ، شام اور فلسطین آزاد ہو جائیں، لبنان آزاد ہو جائے ،سوڈان آزاد ہو جائے ، پاکستان مضبوط ہو جائے اپنی انتہائی پست خیالی تصور کرے گا وہ شرمائے گا کہ میں یہ کیا کہہ رہا ہوں اور کونسا مقصد ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی طرف منسوب کر رہا ہوں۔کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ یہ چھوٹے چھوٹے علاقے آزاد ہو جائیں؟ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ مسلمان دنیا میں ایک چونی کی حیثیت حاصل کر لیں۔میں تو سمجھتا ہوں اگر میرے واہمہ اور خیال میں بھی ایسا نظریہ آئے تو میرا ہارٹ فیل ہو جائے کہ میں کتنا پست نظر یہ اُس عظیم الشان اور مقدس انسان کی بعثت کے متعلق رکھ رہا ہوں جسے خدا نے اوّلین و آخرین کا سردار بنایا۔میں تو سمجھوں گا میرے جیسا جھوٹا انسان دنیا میں اور کوئی نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیم الشان رسول کی طرف اتنا چھوٹا ، اِتنا معمولی اور اتنا ادنیٰ درجہ کا خیال منسوب کر رہا ہو کہ اتنا بڑا رسول اس لئے آیا تھا کہ ایران کے تیل کے چشمے آزاد ہو جائیں،