انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 470

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۷۰ چشمہ ہدایت کبھی بھی حقیقی سر بلندی حاصل نہیں کر سکتے۔یہ عجیب بات ہے کہ مسلمان پہلے تو اس اصل کو کسی نہ کسی شکل میں تسلیم کرتا تھا مگر اب ہماری مخالفت میں اُس نے اس اصل کو بھی چھوڑ ہے۔پہلے کہتا تھا کہ مسیح اور مہدی دنیا میں آئیں گے تو سب کفار کو مسلمان بنالیں گے اور گو وہ کہتا یہی تھا کہ تلوار کے زور سے مسلمان بنا ئیں گے مگر یہ سیدھی بات ہے کہ جب مسیح اور مہدی نے آنا تھا تو کچھ نہ کچھ اس کے ذریعہ روحانیت نے بھی غلبہ پانا تھا مگر اب جوں جوں ہماری تبلیغ وسیع ہوتی جارہی ہے اور جوں جوں وہ مسیح اور مہدی کی آمد سے مایوس ہوتا جا رہا ہے تعلیم یافتہ طبقہ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ قرآن کے ہوتے ہوئے کسی عیسی اور مہدی کی ضرورت ہی کیا ہے۔گویا تھوڑا بہت جو وہ سچائی کے قریب تھے وہ بھی ختم ہو گیا۔اب دنیا میں صرف ہماری ہی جماعت ہے جو اس مسئلہ کو پیش کرتی ہے کہ اسلام روحانی طور پر ساری دنیا پر غالب آئے گا۔مسلمان اس بات کو رڈ کرتا ہے اور وہ کہتا ہے ہمیں اس روحانی غلبہ کی ضرورت نہیں ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی طور پر ایران آزاد ہو جائے ، شام آزاد ہو جائے ، فلسطین آزاد ہو جائے ، لبنان آزاد ہو جائے ،سعودی عرب آزاد ہو جائے ، مصر سے انگریزی فوجیں نکل جائیں ، پاکستان کی حکومت مضبوط ہو جائے ، سوڈان کو آزادی حاصل ہو جائے۔اگر یہ ممالک سیاسی رنگ میں مکمل آزادی حاصل کر لیں تو مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب ہو گئے۔مگر میں پوچھتا ہوں اگر یہ ساری باتیں ہم کو حاصل ہو جائیں ، اگر پاکستان ایک مضبوط اسلامی ملک بن جائے اور تھوڑی بہت اس کی طاقت میں جو کمی ہے وہ دُور ہو جائے ، اگر ایران کے تیل کے چشموں کا سوال حل ہو جائے اور پھر اس کی مالی حیثیت بھی اتنی مضبوط ہو جائے کہ اس کا خزانہ ہر قسم کا مالی بوجھ اُٹھانے کے لئے تیار ہو جائے ، اگر سعودی عرب بھی آزاد ہو جائے اور اس کے تیل کے چشمے اُسی کے قبضہ میں آجائیں اور وہ موجودہ آمد سے دس بیس گنا آمد اسے دینے لگیں ، اگر مصر میں سے بھی انگریزی فوجیں نکل جائیں ، اگر شام کے جھگڑے بھی ختم ہو جائیں اور آئے دن جو وہاں قتل کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں اور کبھی کوئی کمانڈر انچیف مارا جاتا ہے اور کبھی کوئی وزیر یہ سب باتیں ختم ہو جائیں ، اگر پاکستان میں اندرونی طور پر جو جھگڑے پائے