انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 466

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶۶ چشمہ ہدایت قیامت کا دن آنے سے پہلے پہلے آپ خاتم النبیین ثابت نہیں ہو سکتے جب تک اسرافیل اپنا صور نہ پھونکے ۔ جب تک عزرائیل دنیا سے آخری آدمی کی بھی جان نہ نکال لے اُس وقت تک یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں ۔ لیکن اگر تمام انسان ختم ہو جائیں، ہر انسان موت کا شکار ہو جائے ، دنیا پر ایک متنفس بھی باقی نہ رہے اور اُس وقت تک کوئی نبی نہ آئے تو پھر بے شک کہا جا سکے گا کہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب تک کوئی نبی نہیں آیا ۔ لیکن ہمیں تو آج بھی پتہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ۔ ہمارے تو آبا ؤ اجداد کو بھی یقین تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں بلکہ آج سے تیرہ سو سال پہلے صحابہ کو بھی یقین تھا کہ محمد رسول اللہ سے پہلے تھا محمدرسوا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں کیونکہ ہمارے بزرگ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے بغیر نہ عیسی کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے نہ موسی کی ۔ وت ثابت ہو سکتی ہے نہ کسی اور نبی کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے ۔ ہے۔ پھر ان کے علماء نے خود ان کے خلاف لکھا ہے چنانچہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے اپنی کتاب تحذیر الناس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ بھلا یہ کوئی عقل کی بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ کہا جائے کہ چونکہ وہ سب سے آخر میں آئے ہیں اس لئے سب سے بڑے نبی ہیں ؟ آخر میں آنا بھی کوئی بڑائی کی بات ہوتی ہے؟ یہ عقل کے خلاف ہے۔ اب آیت کو دیکھ لو تو وہ بھی صاف طور پر ہمارے معنوں کی ہی تائید کرتی ہے ۔ قرآن کریم میں یہ آیت اس طرح آتی ہے کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين ، نا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں ۔ اب اگر وہ معنے کرو جو غیر احمدی کرتے ہیں تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ جو شخص کسی کا باپ نہ ہو وہ رسول اللہ ہوتا ہے اور جو رسول ہوتا ہے اور جو رسول اللہ ہو وہ خاتم النبیین ہوتا ۔ ہوتا ہے ۔ جس طرح وہ لطیفہ تھا کہ چونکہ مسیح قتل نہیں ہوئے اور صلیب نہیں دیئے گئے اس لئے معلوم ہوا کہ چوتھے آسمان پر چلے گئے ۔ اسی طرح یہ لطیفہ ہے کیونکہ فقرہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ