انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 463

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶۳ چشمہ ہدایت مد ہوش لوگوں کو پانی پلا دیا اور کہہ دیا کہ یہ پانی نہیں تھا شراب تھی۔مگر جس وقت ہم قرآن کو دیکھتے ہیں ، جس وقت ہم قرآن کی پاکیزگی اور اس کی طہارت کو دیکھتے ہیں اور پھر قرآن کو ہی یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ عیسی خدا تعالیٰ کا رسول تھا تو ہم سر جھکا دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ عیسی جو قرآن نے پیش کیا ہے وہ اور ہے اور وہ عیسی " جو انجیل پیش کرتی ہے وہ اور ہے۔قرآن کا عیسی “ نبی ہے انجیل کا عیسی نبی نہیں۔گویا ہماری مثال ویسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ پنجابی شاعر پر کسی شخص نے جس کا نام محمد تھا، سخت ظلم کئے۔وہ کہنے لگا بہت اچھا تم ظلم کر لو میں بھی شعر کہ کر تمہاری خوب خبر لوں گا۔اُس نے کہا تم نے شعر کہے تو میں تم پر کفر کا فتوی لگوا دونگا کیونکہ میرا نام محمد ہے۔مگر وہ بھی ہوشیار تھا اُس نے نظم کہی اور اس کی خوب خبر لی مگر دو چار شعروں کے بعد وہ یہ شعرضرور لکھ دیتا ہے کہ: - جس دا اسیں کلمہ پڑھ دے اوہ محمد ہور ہے ایہہ محمد چور ہے یہی ہماری حالت ہے۔انجیل والے عیسی کا ذکر آئے تو ہم کہتے ہیں دفع بھی کرو وہ کوئی آدمی تھا! لیکن قرآن کے مسیح کا ذکر آئے تو ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے یہ عیسی خدا کا نبی تھا کیونکہ اس کی نبوت پر محمد رسول اللہ کی مُہر لگ گئی۔اب خواہ ساری دنیا حضرت مسیح کی بُرائیاں کرے، ساری دنیا ان کی طرف عیوب منسوب کرے ہم کہیں گے سب جھوٹ ہے عیسی سچ مچ خدا کا نبی تھا۔اسی طرح موسی کے حالات جو تورات میں بیان ہوئے ہیں وہ ایسے تکلیف دہ ہیں کہ کوئی شخص اُن حالات کو دیکھ کر انہیں نبی نہیں کہہ سکتا۔یہی حال حضرت داؤد کا ہے۔قرآن کے حالات پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ داؤد ایک فرشتہ تھا۔مگر بائیبل میں جو حالات لکھے ہیں اُن کو پڑھ کر تو شرم آجاتی ہے کہ کیا یہ شخص خدا کا نبی کہلا سکتا ہے؟ بائیبل بتاتی ہے کہ داؤد کو فتح حاصل ہوئی تو اس خوشی میں وہ ننگے ہو کر لشکر کے آگے آگے ناچنے اور گودنے لگے اور اسی حالت میں وہ شہر میں داخل ہوئے بادشاہ کی بیٹی سے اُن کی شادی ہو چکی تھی وہ اپنے جھرو کے میں بیٹھی لشکر کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی۔اُس نے جو دیکھا