انوارالعلوم (جلد 22) — Page 459
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۵۹ چشمہ ہدایت علیہ السلام نے پیش فرمایا لیکن غیر احمدی علماء سنی کیا اور شیعہ کیا اور حنفی کیا اور شافعی کیا اور حنبلی کیا اور مالکی کیا سب یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں وہ فوت نہیں ہوئے اور یہ کہ آخری زمانہ میں وہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور اُمتِ محمدیہ کی اصلاح کریں گے۔اب اس مسئلہ میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آیا نقل ان کی تائید کرتی ہے؟ پہلی چیز قرآن مجید ہے قرآن کریم سے وہ صرف یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ولكِن شُيّة لهُمْ ، اور وہ اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں حالانکہ ایک بچہ بھی ان کے اس استدلال کو سُن کر ہنس پڑے گا۔مثلاً وہی لوگ جو اس آیت کو پیش کرتے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ کیا آپ کے پردادا کو قتل کیا گیا تھا یا اُن کو صلیب دیا گیا تھا ؟ اور جب وہ کہیں نہیں تو پوچھا جائے کہ پھر کیا وہ زندہ ہیں؟ تو وہ کہیں گے نہیں وہ تو فوت ہو گئے۔یہ کونسی دلیل ہے کہ جسے قتل نہ کیا جائے یا صلیب پر نہ لڑکا یا جائے تو وہ زندہ ہوتا ہے سب ہنس پڑیں گے کہ کیسا بیوقوفی کا سوال ہے۔وہ اگر قتل نہیں ہوئے یا صلیب نہیں دیئے گئے تو زندہ کس طرح ہو گئے۔مگر حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق یہی الفاظ آگئے تو لوگوں نے نتیجہ نکال لیا کہ چونکہ وہ قتل نہیں ہوئے اور چونکہ وہ صلیب نہیں دیئے گئے اس لئے ثابت ہوا کہ وہ زندہ ہیں۔گویا جسے نہ قتل کیا جائے نہ صلیب دیا جائے وہ زندہ ہوتا ہے۔ان لوگوں کی مثال بالکل ویسی ہی ہے ، جیسے کہتے ہیں کہ کسی شخص کو بگولے نے اڑایا اور ایک باغ میں لا کر گرا دیا۔اتفاقاً وہاں انگور کی کچھ بیلیں تھیں۔اُس کے اِدھر اُدھر ہاتھ مارنے سے بہت سے انگور گرے اور جمع ہو گئے اُسے لالچ آئی اور اُس نے ٹوکرا بھرا اور سر پر رکھ کر گھر کی طرف چل پڑا۔راستہ میں مالک نے دیکھ لیا اواُس نے پوچھا کہ یہ انگور کہاں لئے جا رہے ہو؟ کہنے لگا پہلے ساری بات سُن لو پھر خفا ہونا۔بات یہ ہے کہ مجھے بگولے نے اُڑا کر تمہارے باغ میں پہنچا دیا۔جہاں گر ا وہاں انگور کی بیلیں تھیں، ہاتھ اِدھر اُدھر مارے تو انگور گر کر پاس ہی ٹوکرا پڑا ہو ا تھا سب اس میں جمع ہو گئے اب فرمائیے اس میں میرا کیا قصور ہے؟ اُس نے کہا اتنا تو درست ہے لیکن