انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 458

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۵۸ چشمہ ہدایت ہوں خواہ چھوٹے ، خواہ روحانی بزرگ ہوں یا مادی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان معنوں میں خاتم النبیین تھے کہ تمام سابقہ نبیوں کی نبوت آپ کی تصدیق کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتی اور آئندہ آنے والے مامورین بھی آپ کی مہر سے ہی کسی درجہ کو پہنچ سکتے ہیں۔محض آخری ہونا کوئی فخر کی بات نہیں۔اسلام کا روحانی غلبہ تمام دنیا پر ہوگا۔-۴- الہام الہی کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے۔۵- قرآن کریم ایک زندہ نا قابل منسوخ اور ایک غیر محدود مطالب والی کتاب ہے۔خدا تعالیٰ ہمیشہ اپنی قدرتوں کے ذریعہ سے اپنے آپ کو ظاہر کرتا رہتا ہے۔- مذہب کی بنیا دا خلاق پر ہے۔- قانون شریعت اور قانونِ قدرت کا متشارک اور متشابہہ ہونا ضروری ہے۔- اسلام کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں اور اسی وجہ سے قرآن کریم کے مطالب میں ترتیب پائی جاتی ہے۔۱۰ - خدا تعالیٰ ہمیشہ ایسے آدمی پیدا کرتا ہے جو تزکیۂ نفس کریں۔اب ہم نمبر وار ایک ایک عقیدہ کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ عقائد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے پیش فرمائے آیا نقل ان کی تائید کرتی ہے، عقل ان کی تائید کرتی ہے یا جذبات صحیحہ ان کی تائید کرتے ہیں؟ اگر یہ تینوں چیزیں ان عقائد کو درست تسلیم کرتی ہوں تو یہ لازمی بات ہے کہ وہی عقائد آخر دنیا میں قائم ہوں گے اور ہر و شخص جو مذہب پر ایمان رکھتا ہوگا ، ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل کا مادہ ہوگا اور ہر وہ شخص جس کی فطرت میں جذبات صحیحہ پائے جاتے ہوں گے وہ ان عقائد کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔پہلی چیز جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائی وہ یہ ہے کہ ہر انسان خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، خواہ نبی ہو یا غیر نبی اپنا وقت ختم کر کے اور اُس طبعی عمر کو پا کر جو سنت اللہ میں پائی جاتی ہے آخر فوت ہو جاتا ہے۔یہ عقیدہ ہے جو حضرت مسیح موعود