انوارالعلوم (جلد 22) — Page 457
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۵۷ چشمہ ہدایت ہمارے ہاں مرتد ہوئے ہیں لیکن ان سب مرتدوں میں سے ہم نے کسی کو بھی نہیں دیکھا جس نے احمدیت کے عقائد کو ترک کر دیا ہو۔ہم نے دیکھا ہے بیسیوں سال کے مرتد بھی ملیں اور اُن سے پوچھا جائے کہ وفات مسیح کے متعلق کیا خیال ہے؟ تو وہ کہتے ہیں وہ تو مرزا صاحب نے سچ ہی کہا ہے عیسی تو مرا ہی ہوا ہے۔غرض میں تمہیں بتا تا ہوں کہ تمہارے لئے حصول ایمان کے مواقع موجود ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے ہر شخص کے اندر ایمان موجود ہے، میں یہ بھی نہیں کہتا کہ تم میں سے شخص کے اندر ایمان موجود ہونا ضروری ہے۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمہارے لئے ایسے مواقع ضرور موجود ہیں کہ بغیر اس کے کہ تم کو تلوار سے کاٹا جائے ، بغیر اس کے کہ تم کو آگ میں ڈالا جائے ، بغیر اس کے کہ تم کو پہاڑ سے گرایا جائے تم کہہ سکتے ہو کہ ہم میں ایمان موجود ہے۔تم اپنے عقیدوں کو نمبر وار لکھ لو اور پھر دیکھو کہ عقل اُن کی تائید کرتی ہے یا نہیں ؟ نقل اُن کی تائید کرتی ہے یا نہیں؟ جذبات صحیحہ اُن کی تائید کرتے ہیں یا نہیں ؟ تم زبان پر میٹھا رکھو تو تمہاری زبان چاہے دس کروڑ بادشاہ تم کو کہے کہ کہو یہ چیز کڑوی ہے وہ کبھی اُسے کڑوا نہیں کہے گی لیکن لالچ میں آجاؤ تو پانچ روپے لے کر کونین کے متعلق بھی تم کہہ سکتے ہو کہ وہ کڑوی نہیں۔پس لالچ اور چیز ہے ورنہ جس شخص کے ساتھ یہ تینوں باتیں مل جائیں گی وہ یقین اور وثوق کے ساتھ آپ ہی آپ فیصلہ کر سکتا ہے۔جوانی میں فیصلہ کر سکتا ہے، بچپن میں فیصلہ کر سکتا ہے کہ میں اس مقام پر اب کھڑا ہو گیا ہوں کہ اب میرے لئے ایسے مواقع موجود ہیں کہ میرے ایمان کو کوئی اور ورغلا نہیں سکتا۔نہ بادشاہتیں مجھے ہلا سکتی ہیں، نہ حکومتیں ہلا سکتی ہیں نہ کوئی اور طاقت ہلا سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے احمدیت کے جو اصول دنیا کے سامنے پیش فرمائے ہیں وہ اگر چہ بہت سے ہیں مگر میں اس وقت صرف دس موٹے موٹے اُصول پیش کرتا ہوں جن سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اس وقت حقیقی ایمان ہمارے پاس ہے یا ہمارے غیر کے پاس۔آپ نے بتایا کہ : - تمام انسان جو اب تک پیدا ہوئے اپنا کام ختم کر کے فوت ہو چکے ہیں ، خواہ وہ بڑ۔