انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 451

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۵۱ چشمہ ہدایت ہیں یعنی حوالہ کہ تمہارے مذہب میں یا فلاں کتاب میں یوں لکھا ہوا ہے اُس کی وجہ سے انسان اپنے عقیدہ پر پکا ہوتا ہے۔جب اس سے ہٹا دو کہ یوں نہیں تو وہ ہل جاتا ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سُنایا ہے کہ مولوی نظام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک پرانے دوست ہوا کرتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے بھی وہ دوست تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی مسیحیت کیا اور انہوں نے مخالفت کی اور کفر کے فتوے لگائے تو مولوی نظام الدین صاحب اُس وقت حج کے لئے گئے ہوئے تھے ، انہیں حج کا بڑا شوق تھا ، ۱۲ حج اُنہوں نے کئے تھے، جب حج سے واپس آئے اور انہوں نے سُنا کہ اس طرح جھگڑا ہو گیا ہے تو اُنہیں بڑا افسوس ہوا اور قادیان پہنچے۔حضرت صاحب بیٹھے تھے کہنے لگے میں نے حج سے واپس آکر کچھ باتیں سنی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے فرمایا آپ نے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے سُنا ہے آپ کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں آپ نے فرمایا میاں صاحب ! بات تو ٹھیک ہے۔وہ کہنے لگے قرآن میں تو اس کے خلاف لکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے فرمایا اگر قرآن میں اس کے خلاف لکھا ہوتا تو ہم فوراً چھوڑ دیتے۔یہی تو سوال ہے ہم کہتے ہیں قرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور وہ کہتے ہیں نہیں لکھا۔وہ کہنے لگے قرآن میں تو بیسیوں آیتیں ہیں۔آپ نے فرمایا بیسیوں نہیں آپ ایک ہی لے آئے۔انہوں نے تو اپنے مولویوں سے سُنا ہوا تھا کہ قرآن میں لکھا ہے حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں ، وہ تھے ان پڑھ مگر دیندار بہت تھے کہنے لگے اچھا اگر میں سو آیت لے آؤں تو کیا آپ مان جائیں گے؟ آپ نے فرمایا سو کا سوال نہیں ایک ہی لے آئیں۔اس پر انہیں محبہ پڑا کہ شاید سو آیتیں نہ ہوں کہنے لگے اچھا اگر میں پچاس آیتیں لے آؤں تو کیا آپ مان جائیں گے؟ حضرت صاحب نے فرمایا میاں صاحب! ہم نے کہہ جو دیا ہے کہ ایک آیت ہی لے آئیں تو ہم اپنا عقیدہ چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔اس سے پھر ان کو اور شھبہ پڑا اور آخر دس پر آ گئے۔چونکہ ہر روز وعظ سُنتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اس لئے انہوں نے