انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 446

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۴۶ چشمہ ہدایت ریلا روتا اور بلبلاتا ہوا نکل رہا تھا تو اس صحابی نے دیکھا کہ ان کی ستر سالہ بڑھیا ماں بھی بے تابی کے ساتھ چلی آرہی ہے۔اس نابینا بڑھیا کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔اُسے رستہ نظر نہیں آتا تھا اور وہ پریشانی کے عالم میں ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔جب اس صحابی نے اپنی ماں کو دیکھا تو انہوں نے کہا یا رَسُول اللہ ! میری ماں ! ، يَا رَسُول اللہ ! میری ماں ! مطلب یہ تھا کہ اس کا جوان بیٹا بڑھاپے کی عمر اور کمزوری میں مارا گیا ہے آپ اس کی طرف توجہ فرمائیں تا کہ اس کے دل کو تسکین حاصل ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس بات کو سمجھ گئے۔وہ بڑھیا قریب آئی تو آپ نے فرمایا میری اونٹنی کو کھڑا کرو۔پھر آپ نے اس عورت کو مخاطب کیا اور فرمایا اے خاتون ! میں تمہارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے بیٹے کو شہادت کا رتبہ دیا وہ تمھیں صبر دے اور تمہارے اس غم کو دُور کرے۔نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ عورت ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ یہ آواز مجھے کہاں سے آرہی ہے؟ وہ تو یہی بجھتی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور آواز تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔دیکھتے دیکھتے آپ کے چہرہ پر اس کی نظر پڑ گئی اور اس نے دیکھ لیا کہ آپ ہی ہیں اور آپ ہی بول رہے ہیں۔اس پر تنک کر جیسے عورت خفگی میں بولتی ہے کہنے لگی یا رَسُول اللہ ! آپ بھی کیسی باتیں کرتے ہیں۔یا رَسُول اللہ ! میرے بیٹے کا یہاں کیا ذکر ہے سوال تو آپ کی زندگی کا تھا سو آپ خیریت سے آگئے بیٹے مرتے پھر میں ان کا کیا سوال ہے ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم کو خدا مل جائے اور اگر ہر قسم کے خطرات کو مول لینے کے بعد خدا کا دامن ہمارے ہاتھ میں آجائے تو ہم تو یہی کہیں گے کہ قوم کیا ہوتی ہے تو میں رہیں یا جائیں خدا ہمارا مددگار ہے۔پس ہمیں ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ آیا ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ خدا کے منشاء کے مطابق ہے یا وہ اُس معیار تک پہنچتا ہے جس معیار تک پہنچنے کے بعد انسان ہر قسم کے روحانی خطرات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔پہلی چیز ایمان ہے۔دوسری چیز عمل صالح ہے۔تیسری چیز وصیت پالحق۔اور چوتھی چیز وصیت بالصبر ہے۔ان میں سے پہلی چیز کو لیتا ہوں یعنی ایمان۔ہم منہ سے کہہ دیتے