انوارالعلوم (جلد 22) — Page 441
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۴۱ چشمہ ہدایت عادت ڈالنی چاہئے۔دُنیا میں سب سے اچھا جلیس کتاب ہوتی ہے کیونکہ انسان کسی جگہ پر بھی جائے وہ جلیں ساتھ جا سکتا ہے۔تمہارا گہرے سے گہرا دوست جب تم گھر میں جاتے ہو تو وہ باہر رہ جاتا ہے۔تمہارا گہرے سے گہرا دوست اپنے بیوی بچوں کی ضرورتوں کے لئے رات کو تمہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے لیکن تمہاری کتاب ہر وقت ساتھ رہ سکتی ہے۔رات کو تم سوتے ہو، بیوی تمہارے ساتھ ہے، دروازے بند کئے ہوئے ہو، پردہ کئے ہوئے ہو، اُس نے بھی کتاب اُٹھائی ہوئی ہے اور تم نے بھی ایک کتاب اُٹھائی ہوئی ہے دونوں پڑھتے چلے جاتے ہیں۔علم بڑھتا چلا جاتا ہے۔کوئی خاص مسئلہ تمہیں پسند آتا ہے تو تم اس سے مخاطب ہو جاتے ہو۔کوئی خاص مسئلہ اُسے پسند آتا ہے تو وہ تم سے مخاطب ہو جاتی ہے۔اس طرح دونوں اپنے تبادلہ خیالات سے اپنے گھر کا علم بھی بڑھاتے جاتے ہیں، اپنے خاندان کا علم بھی بڑھاتے جاتے ہیں اور پھر اپنے ہمسایہ اور اپنی قوم کا علم بھی بڑھاتے جاتے ہیں۔تو سب سے پہلی ذمہ داری جماعت پر یہ ہے کہ وہ اس لٹریچر کو خریدے۔دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ پھر وہ اپنی عورتوں اور بچوں کو پڑھوائیں اور تیسری ذمہ داری جو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر علم وسیع نہیں ہو سکتا یہ ہے کہ ہر جماعت میں لائبریریاں کھولی جائیں۔اگر ہم ہر جماعت میں لائبریریاں کھول دیں تو میں سمجھتا ہوں ہماری تبلیغ کئی گنا وسیع ہو سکتی ہے۔لائبریری کے لئے کوئی دوست کچھ وقت دے دیا کریں۔آخر جو چندہ جمع کرتا ہے اُس کو بھی گھر بیٹھے چندہ نہیں آجا تا دن میں سے گھنٹہ دو گھنٹے وہ وقف کرتا ہے تبھی چندہ آتا ہے۔بعض دفعہ شام کے وقت جب وہ سمجھتا ہے کہ مجھے فرصت ہے تو اس کام کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے بلکہ بڑے شہر والوں نے تو بتایا کہ انہیں دو دو تین تین گھنٹے روزانہ وقت دینا پڑتا ہے۔اسی طرح کوئی شخص لائبریری کے لئے بھی وقت دے سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ شام کو پانچ بجے سے سات بجے تک یا چھ سے آٹھ بجے تک یا سات سے کو بجے تک لائبریری کھلے گی اور لوگوں کو کتابیں دی جائیں گی۔کچھ اخبار بھی منگوا کر رکھے جاسکتے ہیں۔چھوٹی جماعتوں کے لئے تو کتابیں تقسیم کرنے والی لائبریری زیادہ اچھی رہتی