انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 439

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۳۹ چشمہ ہدایت دوسرا طریق میں نے بڑے مضامین کے متعلق سوچا۔میں نے پچھلے سال تحریک کی کہ ہمارے جو جامعہ کے لڑکے ہیں اُن کو ڈگری نہ دی جائے جب تک یہ کسی نہ کسی مضمون کے متعلق کتاب نہ لکھ دیں۔اس کے ذریعہ بھی بڑا مفید لٹریچر جمع ہو جائے گا۔عنوان ہم مقرر کریں گے اور کام ان سے لیں گے۔اس طرح وہ مستقل کتابیں پیدا ہو جائیں گی جن کے ذریعہ ہماری جماعت بھی فائدہ اُٹھائے گی اور دوسرے لوگ بھی فائدہ اُٹھا سکیں گے۔اس سال چونکہ یہ بے وقت کا رروائی شروع ہوئی اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بجائے لمبی کتاب دینے کے پچھتر صفحوں کی کتاب مقرر کر دی جائے اور ایسے عنوان مقرر کئے جائیں جن کو وہ زیادہ آسانی کے ساتھ لکھ سکیں۔چنانچہ یہ کتا بیں اس سال انشاء اللہ وہ تھیس کے طور پر لکھیں گے اور پھر ان کو سلسلہ کی طرف سے ( جو ان میں سے مفید ہوں گی ) شائع کر دیا جا ہے گا۔(1) احکام الصلوۃ اور ان کی اصولی حکمتیں۔(۲) اجرائے نبوت فی الامۃ ( حدیث کی روشنی میں جو کچھ اس مسئلہ پر علمائے سلسلہ لکھتے آئے ہیں ان کا خلاصہ اور نئی تحقیق ) (۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف کی وجہ سے غیر احمدی مصنفین پر کیا اثر پڑا ہے۔( مسائل کے لحاظ سے ) (۴) اشتراکیت اور مذہب (۵) الامام المہدی (اسلامی لٹریچر میں پہلے اس کی کیا اہمیت رہی ہے اور اب مسلمان اس حقیقت کو کس طرح فراموش کرتے جا رہے ہیں ) (1) ہمارے مشن ( یعنی اب تک جس جس جگہ ہمارے مشن قائم ہوئے ان کا ذکر نیز ان ممالک کے مختصر ضروری جغرافیائی اور تاریخی احوال اور مذہبی تحریکیں نیز مشن کے قیام کی تاریخ ، کام کی نوعیت اور نتیجہ ) (۷) ہجرت از قادیان اور پیشگوئی دربارہ واپسی۔(۸) مودودی تحریک پر تبصرہ۔