انوارالعلوم (جلد 22) — Page 436
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۳۶ چشمہ ہدایت زیادہ سے زیادہ وعدے لکھا ئیں اور پھر نہ صرف اِس سال کے بلکہ گزشتہ سال کے وعدوں کی وصولی کے لئے بھی خاص کوشش کریں۔اس سال ہمارے علاوہ عام مسلمانوں کے لئے بھی کافی مشکلات رہی ہیں۔مثلاً کشمیر کا مسئلہ ہے جو حل ہونے میں ہی نہیں آتا۔میرے نزدیک اس مسئلہ کو یوں غیر معتین عرصہ کے لئے ملتوی کرنا قرین مصلحت نہیں ہے۔ایک لمبے عرصہ تک باشندگانِ کشمیر کو ایک غیر ملکی حکومت کے ماتحت رہنے دینا اور پھر یہ اُمید کرنا کہ وہ ہمیں ووٹ دیں گے کوئی ایسی تشفی کی بات نہیں ہے۔پھر ہمارے ملک میں اسی سال نوابزادہ لیاقت علی صاحب کا قتل بھی ایک افسوسناک واقعہ ہے جو نتیجہ ہے مولویوں کے اُس پرو پیگنڈا کا کہ جس سے اختلاف رائے ہو بے شک اُسے قتل کر دیا کرو۔مسئلہ فلسطین بھی کشمیر کے مسئلہ سے کم اہم نہیں ہے۔یہ ایک چھوٹا سا ملک ہے اور وہاں لاکھوں مہاجرین کو آباد کرنے کا سوال در پیش ہے۔پاکستان کو یہ سہولت تھی کہ یہ ایک وسیع ملک ہے جہاں مہاجرین کافی تعداد میں بسائے جا سکتے تھے لیکن وہاں یہ حالت نہیں ہے۔مہاجرین کی آبادکاری کے سوال کے علاوہ اس مسئلہ کا ایک نازک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں دشمن اسلام کو بسا دیا گیا ہے۔میں نے تو ابتداء میں ہی اس خدشہ کا اظہار کیا تھا لیکن اب تو یہودی علانیہ اپنی کتابوں میں مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر قابض ہونے کے ناپاک عزائم کا اظہار کرنے لگے ہیں۔علاوہ ازیں ایران میں تیل کا مسئلہ، مصر کا برطانیہ سے تنازعہ، سوڈان کی بے چینی اور شام کے فسادات یہ سب ایسے امور ہیں جو مسلمانوں کے لئے تکلیف دہ ہیں۔ہم تعداد میں بہت کم ہیں اس لئے ان مشکلات کے ازالہ کے لئے عملاً زیادہ حصہ نہیں لے سکتے لیکن کم از کم دُعا کا ہتھیار تو ہمارے پاس ہے۔پس آؤ ہم دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی ان مشکلات کو اپنے خاص فضل سے دُور کرے اور نقصان کی بجائے ان مشکلات کو اسلام کی ترقی کا ذریعہ بنائے۔آمین