انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 430

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۳۰ چشمہ ہدایت سارے ارد گرد کے لوگ اکٹھے ہو گئے ، عورتیں بھی آگئیں اور اُس سے ہمدردی کرنے لگیں کہ کیا ہوا؟ کچھ بچا بھی ؟ اُس نے کہا کچھ نہیں بچا صرف یہ انگوٹھی بچی ہے۔آخر کسی عورت نے پوچھا کہ بہن ! یہ انگوٹھی تم نے کب بنوائی تھی؟ وہ رو کر کہنے لگی کہ تو پہلے پوچھ لیتی تو میرا گھر ہی کیوں جلتا۔تو بار ہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ لطیفہ سنایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ عورت کی فطرت میں کچھ نمائش اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے۔پس میرے زیادہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔میرے خیال میں جو سامنے دفتر لجنہ اماءاللہ کا بنا ہوا ہے وہ اپنی شان سے اور اپنی عظمت سے اور اپنے اس نظارہ سے کہ مرد چپ کر کے بیٹھے ہیں اور ہم نے اپنا دفتر بنا لیا ہے عورتوں کو سب وعظوں سے زیادہ کام پر تیار کر دے گا۔مجھے یقین ہے کہ وہ بڑے شوق سے جاتے ہی روپے جمع کرنا شروع کر دیں گی اور جو باقی رقم ہے اُس کو غالبا چند دنوں کے اندر ہی پورا کر دیں گی۔مجھے زیادہ فکر عورتوں کے ذمہ جو مسجد ہالینڈ کے لئے چندہ کی تحریک مسجد ہالینڈ لگائی گئی ہے اُس کا ہے اس میں ابھی بہت سی کمی باقی ہے۔میں نے جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے مسجد ہالینڈ کا چندہ عورتوں نے مردوں سے زیادہ دیا ہے۔مردوں کے ذمہ واشنگٹن کی مسجد لگائی گئی ہے اور اُس کا خرچ مسجد بنا کر قریباً اڑھائی پونے تین لاکھ ہوتا ہے اور جو عورتوں کے ذمہ کام لگایا تھا مسجد ہالینڈ کا اُس کی ساری رقم زمین وغیرہ ملا کر کوئی اسی ہزار یا لاکھ کے قریب بنتی ہے۔اُنہوں نے اپنے اسی ہزار میں سے چھیالیس ہزار روپیہ ادا کر دیا ہے یعنی پچاس فیصدی سے زیادہ اور مردوں نے اپنے اڑھائی پونے تین لاکھ میں سے اب تک چھتیس ہزار روپیہ دیا ہے اور زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مکان کو اس وقت تک ایک احمدی کے پاس اگر وہی سمجھئے۔یوں تو انہوں نے قرض دیا ہوا ہے لیکن بہر حال اس مکان کے لئے دیا ہوا ہے اس لئے اُسے گرو ہی سمجھو۔اس کے ساتھ وہاں کے مبلغ کی طرف سے اصرار ہو رہا ہے کہ پچھلا قرضہ ادا کرو اور آگے کے لئے مسجد کی تیاری کرو۔پس ممکن ہے یہ مکان گر وہی رکھنا پڑے لیکن مسجد ہالینڈ کی طرف میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کو توجہ دلانے کی اتنی