انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 431

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۳۱ چشمہ ہدایت ضرورت نہیں۔مجھے یقین ہے کہ وہ میری اس مختصر تحریک سے ہی اپنے فرض کو سمجھنے لگ جائیں گی اور اس نیک کام کی تکمیل تک پہنچا دیں گی۔میں عورتوں سے کہتا ہوں تمہاری قربانی مردوں سے اس وقت بڑھی ہوئی ہے۔اپنی اس شان کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دفتر کے قرضہ کو بھی ادا کرو اور اس کے ساتھ مسجد ہالینڈ کو بھی نہ بھولنا۔اس کے لئے ابھی کوئی پچاس ہزار روپیہ کے قریب ضرورت ہے۔ہمارا پہلا اندازہ مکان اور مسجد کی تعمیر کا تمیں ہزار کے قریب تھا لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ ساٹھ ہزار سے کم میں وہ جگہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس جگہ پر گورنمنٹ کی طرف سے کچھ قیود ہیں اور وہ ایک خاص قسم کی اور خاص شان کی عمارت بنانے کی وہاں اجازت دیتے ہیں اس سے کم نہیں دیتے۔پس زمین کی قیمت مل کر ۹۰ ہزار سے ایک لاکھ تک کا خرچ ہو گا جس میں سے وہ بفضلہ چھیالیس ہزار تک اس وقت تک ادا کر چکی ہیں۔یہ باتیں تو میں نے عورتوں سے مخاطب ہو کے کی ہیں اب جو باقی باتیں ہیں چونکہ اسلام مردوں کا بھی ہے اور عورتوں کا بھی اس لئے اس میں مرد بھی شریک ہوں گے اور عورتیں بھی شریک ہوں گی۔( الاظہار لذوات الخمار صفحه ۱۳۱ تا ۱۳۳، الفضل ۲ /جنوری ۱۹۵۲ء) قادیان سے ایک اخبار بدر کے نام سے نکلنا شروع ہوا ہے۔گومیں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک کی ضروریات اس سے کچھ زیادہ پوری نہ ہو سکیں گی لیکن دوستوں کو یہ امر ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اس وقت یہاں کے دوست نسبتا زیادہ اچھی حالت میں ہیں اس لئے وہ اخبار کی زیادہ مدد کر سکتے ہیں اور ان کی یہ مدد اس اخبار کی مالی حالت کو مضبوط کرنے کے علا وہ ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ میں بھی بڑی مُمد ثابت ہوگی۔پس یہ ایک ثواب کا فعل ہے دوستوں کو ضرور اس اخبار کی مدد کرنا چاہئے۔الفضل“ کے خریداروں کی تعداد میں ایک عرصہ سے کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہو رہا۔حالانکہ جماعت کافی بڑھ رہی ہے۔اخبارات ضروریاتِ زندگی میں سے ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اکثر مجھے اخبار پڑھنے کی تحریک فرمایا کرتے تھے اور ایک روز نامہ اخبار تو بڑی بھاری تربیت گاہ کا رنگ رکھتا ہے۔اس کی طرف سے