انوارالعلوم (جلد 22) — Page 423
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۲۳ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۵۱ء ہمیں اپنے اوقات مفید کاموں اور سلسلہ کے کاموں اور اسلام کے کاموں میں صرف کرنے چاہئیں۔جیسا کہ آپ لوگوں نے محسوس کیا ہوگا میری آواز بیٹھی ہوئی ہے۔مجھے یکدم چھ سات دن سے نزلہ کی شکایت پیدا ہوئی اور اتنا شدید نزلہ ہوا کہ تین دن تک میں دائیں اور بائیں رات کو کروٹ بدلتے ہوئے ( بلکہ اوّل تو بہت سا وقت نیند ہی نہیں آتی تھی ) ناک کے نیچے رومال رکھ کر لیٹتا تھا کیونکہ پانی پرنالے کی طرح چلتا چلا جاتا تھا اور مجھے یہی احتمال تھا کہ میں شاید اس جلسہ پر کوئی تقریر نہیں کر سکوں گا مگر پرسوں سے کسی قدر افاقہ شروع ہوا ہے۔مگر ایسا نہیں کہ نزلہ بالکل بند ہو گیا ہو نہ ایسا کہ میری آواز کھلی ہو اس لئے میں آہستہ ہی بول سکتا ہوں۔یہ نہیں جانتا کہ کل تک کیا ہو۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس بات کی توفیق عطا کر دے کہ میں اچھی طرح بول سکوں مگر موجودہ حالت یہی ہے کہ معمولی سی بات کرنے سے بھی سینہ میں خراش شروع ہو جاتی ہے اور اس طرح ناک بہنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور چھینکیں شروع ہو جاتی ہیں گو پہلے سے بہت افاقہ ہے اس لئے میں احباب سے یہ بھی خواہش کرتا ہوں کہ جیسا کہ انہوں نے گزشتہ سال نہایت ہی ہمت کے ساتھ اور عقل سے کام لے کر بہت حد تک گر داڑانے سے پر ہیز کیا تھا جلسہ کے وقت میں بھی اور ملاقاتوں کے وقت میں بھی اس دفعہ اُس سے بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اُن دنوں عملاً میری بیماری رفع ہو چکی تھی کمزوری باقی تھی لیکن ان دنوں میں عملاً مجھ پر بیماری کا حملہ ہے اور ذراسی گرد اڑنے سے بھی نزلہ کی شکایت عو دکر آتی ہے۔ملاقات کے وقت بعض دوست ذرا پیر زیادہ زور سے مارنے کے عادی ہوتے ہیں۔میں اس کو بُرا تو نہیں کہتا آخر کام کرنے والی اور اُمنگوں والی جماعتوں میں کچھ بہادرانہ رنگ بھی پایا جانا چاہئے مگر وقت وقت کے لحاظ سے بعض دفعہ احتیاط بھی کی جاسکتی ہے۔سو دوست جب ملاقات کے لئے آئیں اُس وقت آہستہ سے قدم رکھیں تا کہ گرد نہ اُڑے۔اسی طرح بعض لوگ اپنا کپڑ ا ساتھ سمیٹتے آتے ہیں۔خصوصاً گاؤں کے لوگ اور ان کے کپڑے کے سمیٹنے سے اُسی طرح گرداڑتی ہے جس طرح جھاڑو سے۔وہ تو تندرست ہوتے ہیں اُن کو