انوارالعلوم (جلد 22) — Page 405
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۰۵ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔اسے اصل چیز نہیں ملتی اس وقت تک کبھی وہ بیوی کا ہو رہتا ہے، کبھی بہن بھائی کا ہو رہا ر رہتا ہے ، کبھی وہ ماں باپ کا ہو رہتا ہے، کبھی وہ دوستوں کا ہو رہتا ہے، وہ درمیان میں بُھولتا پھرتا ہے مگر جب خدا تعالیٰ کے ملنے کا راستہ اُس پر کھل جاتا ہے تو پھر وہ خدا تعالیٰ ہی کا ہوکر رہتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر دیکھا کہ ایک عورت کا بچہ گم ہو گیا ہے اور وہ میدانِ جنگ میں اپنے بچہ کو تلاش کرنے کے لئے ماری ماری پھر رہی ہے۔اسے جہاں کوئی بچہ ملتا وہ اسے پیار کرتی اور گلے لگاتی لیکن جب دیکھتی کہ وہ اُس کا اپنا بچہ نہیں تو اسے چھوڑ دیتی اور آگے چلی جاتی یہاں تک کہ اُسے اپنا بچہ مل گیا۔اُس نے اُسے پیار کیا، گلے لگایا اور ایک جگہ آرام سے بیٹھ گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔آپ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔یہی حالت خدا تعالیٰ کی ہوتی ہے۔جس طرح یہ عورت جب اسے کوئی بچہ ملتا ہے تو اُس سے پیار کرتی ہے، گلے لگاتی ہے اور جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں تو اُسے چھوڑ کر آگے چلی جاتی ہے حتی کہ اسے اپنا بچہ مل جاتا ہے اور وہ سکون سے ایک جگہ پر بیٹھ جاتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے لئے ہر وقت بیتاب رہتا ہے۔جب بندہ صحیح رنگ میں تو بہ کر کے اُسے مل جاتا ہے تو وہ ویسا ہی سکون محسوس کرتا ہے جس طرح کا سکون اس ماں نے محسوس کیا ہے۔پس خلق الانسان من علق کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس میں تعلق اور محبت پیدا کرنے کا مادہ رکھ دیا ہے اور اس میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اے رسول ! تُو ان سے مایوس نہ ہو۔ہم نے ان میں ایسا مادہ ودیعت کر رکھا ہے کہ وہ تجھے مانیں گے۔غرض إقرا باسمِ رَتِكَ الَّذِي خَلَقَ میں بظاہر ایک پیغام دیا گیا ہے لیکن باطن اس پیغام کے الفاظ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا دلیل کسی کام کو کرنے کے لئے تیار نہ تھے نہ بلا حق کسی سے کوئی کام کروانے کے لئے تیار تھے اور نہ کسی بے نتیجہ کام کو کرنے کے