انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 396

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۹۶ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔اسی طرح وہ نیچے چلتا جائے گا اور تاریخ کے مختلف زمانے بیان کرتا جائے گا۔وہ محض اس زمین کو دیکھ کر دو دو تین تین ہزار سال تک کے واقعات بیان کرے گا اور یہ سب چیزیں زمین کے اندر مخفی ہوں گی۔یہی حال قرآن کریم کا ہے۔اس کے مطالب بھی الفاظ کی تہوں کے نیچے چھپے ہوتے ہیں۔اگر زمین کی سب چیزوں کو باہر نکال کر پھیلا دیا جائے تو انسان کا زمین پر چلنا پھرنا مشکل ہو جائے گا لیکن چونکہ وہ سب چیزیں زمین کے اندر تہہ بہ تہہ رکھی ہوئی ہیں اس لئے ہم اس کے اوپر چلتے پھرتے ہیں لیکن جب اسے کھودتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مثلاً اس کے اندر چونے کی چٹانیں ہیں۔اگر وہ چھونے کی چٹانیں باہر نکال کر سطح پر پھیلا دی جائیں تو کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہاں ربوہ آباد ہوسکتا تھا ؟ یہ ای جگہ بجائے آدمیوں کے چٹانوں سے بھری ہوئی ہوتی۔اس طرح وہ سب مطالب جو قرآنی الفاظ کی تہوں میں چھپے ہوئے ہیں باہر نکال لئے جاتے اور ظاہری الفاظ میں انہیں بیان کیا جاتا تو جیسے اس زمین کی اندر کی چیزیں اگر باہر آ جائیں تو ربوہ آباد نہیں ہو سکتا تھا وہ چیزیں پھیل کر سینکڑوں میل کا علاقہ رُک جاتا اسی طرح قرآن کریم کو بھی انسان نہیں کی پڑھ سکتا تھا۔وہ اتنی بڑی کتاب ہو جاتی کہ کتاب نہ رہتی ایک عظیم الشان لائبریری ہو جاتی اور اس میں ہزاروں کتب رکھی ہوئی ہوتیں۔ایک نسلِ انسانی کہہ دیتی کہ ہم نے اس کے پانچ سو صفحات پڑھے ہیں، دوسری کہتی کہ ہم نے اس کے ایک ہزار صفحات پڑھے ہیں۔اب قرآن کریم ایک چھوٹی سی کتاب ہے لیکن زمین کی طرح اس کی ایک تہہ کے نیچے ایک مضمون ہے دوسری تہہ کے نیچے دوسرا مضمون ہے تیسری تہہ کے نیچے تیسرا مضمون ہے اور اس طرح تھوڑے سے الفاظ میں ہزاروں مضامین بیان کر دیئے گئے ہیں۔حفظ کرنے والے اسے آسانی سے حفظ کر سکتے ہیں اور پڑھنے والے اسے جلدی پڑھ لیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اور سوانح بھی قرآن کریم میں تہہ بہ تہہ بیان کئے گئے ہیں۔ظاہر الفاظ میں مضمون اور ہوتا ہے لیکن ان کے نیچے اور مضامین بھی ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو پہلا مقام جہاں آپ پر کلام الہی نازل ہو ا وہ غار حرا تھی۔دُنیا کے لیڈر جب کوئی اُمنگ رکھتے ہیں یا اپنے اندر کوئی خوبی