انوارالعلوم (جلد 22) — Page 395
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۹۵ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔کرنا تو بھول گیا لیکن قرآن کریم لکھنے والا بھولتا نہیں۔اس لئے جب تم قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں آپ کے اعمال و اقوال اور اخلاق دیکھو گے تو تم یہ نہیں کہو گے کہ اوہو! فلاں چیز رہ گئی ہے بلکہ تم یہ کہو گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خوبی بھی تھی لیکن میں نے اس کا خیال نہیں کیا تھا۔پس اگر کسی انسان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں ، اخلاق اور اعمال و اقوال کا احاطہ کرنا ہو تو اس کا ذریعہ یہ ہے که قرآن کریم کو دیکھا جائے اور معلوم کیا جائے کہ آپ کے کیا اعمال ہیں اور آپ کے کیا اقوال ہیں۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ، سیرت اور سوانح پر مشتمل نہیں لیکن اس میں یہ خوبی ہے کہ جب وہ کوئی مضمون لیتا ہے تو اس کے تمام متعلقہ مضامین کو اُس کے نیچے تہہ بہ تہہ جمع کر دیتا ہے۔بالکل اُسی طرح جس طرح زمین کے طبقات ہوتے ہیں۔اوپر کے طبقہ میں اور قسم کی مٹی ہوتی ہے ، دوسرے طبقہ میں اور قسم کی مٹی ہوتی ہے، تیسرے طبقہ میں اور قسم کی مٹی ہوتی ہے۔اور جب ہم کسی زمین کو دیکھتے ہیں تو اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ زمین اچھی پیداوار دینے والی ہے یا بُری پیداوار کی دینے والی ہے۔یہ کنکریلی زمین ہے یا اس میں عمدہ لیسدار مٹی پائی جاتی ہے اور اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس میں فصل اچھی ہوگی یا خراب ہو گی۔مکان اچھے تعمیر ہوں گے یا خراب تعمیر ہوں گے ، بنیا دیں گہری کھودنی پڑیں گی یا تھوڑی ، عمارت کئی منزلوں کی بن سکے گی یا وہ زمین زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکے گی لیکن ایک ماہرفن اس زمین کو کھو دے گا تو کہدے گا کہ اتنے گز زمین کھود نے کے بعد پتہ لگتا ہے کہ اتنے ہزار سال پہلے اس جگہ میں پانی ہوتا تھا اور وہ اپنے اندر فلاں قسم کے جانور اور حیوانات رکھتا تھا۔پھر وہ چند گز اور مٹی کھو دے گا اور اس زمین سے جس کو سرسری طور پر دیکھ کر ہم نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ اس میں فصل زیادہ ہوگی یا کم ، عمارت کئی منزلوں والی بن سکے گی یا نہیں ، وہ ماہر فن یہ نتیجہ نکالے گا کہ فلاں فلاں وقت میں اس زمین میں یہ یہ تبدیلیاں اندرونی آگ یا گرمی کی وجہ سے پیدا ہوئیں یا دھاتوں نے پکھل پکھل کر اس کے اندر یہ یہ تغیرات پیدا کر دئیے۔