انوارالعلوم (جلد 22) — Page 394
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۹۴ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ کارکن اپنے فرائض کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔باوجود اس کے کہ مجھے جلسہ میں آنے کی طاقت نہیں تھی ، میری طبیعت خراب تھی لیکن کل خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈال دیا کہ میں جلسہ میں ضرور جاؤں۔میں ایک دو سال سے سُن رہا تھا تو کہ لوگ اس طرف پوری توجہ نہیں دیتے اور ان میں وہ جوش اور ولولہ نہیں ہوتا جو عاشق کو اپنے معشوق کی ملاقات کے وقت ہوتا ہے سو آج یہاں آنے سے اس کی تصدیق ہوگئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کوئی ایسی چیز نہیں ہیں کہ جنہیں کوئی انسان ایک بیٹھک میں یا ایک تصنیف میں بیان کر سکے۔آپ کے اعمال، آپ کے اقوال اور آپ کے جذبات اتنے متنوع تھے اور اتنی اقسام پر مشتمل تھے کہ انہیں ایک وقت میں یا ایک بیٹھک میں محسوب کر لینا، گن لینا اور شمار کر لینا انسانی طاقت سے بالا ہے۔در حقیقت جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفات الہیہ کو بیان کیا ہے اور ایسے رنگ میں بیان کیا ہے کہ اور کوئی شخص اس طرح صفات الہیہ کو بیان نہیں کر سکا اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو جس طرح قرآن کریم نے بیان کیا ہے یا خدا تعالیٰ نے ان کا احاطہ کیا ہے اُس طرح اور کوئی انسان ان کو بیان نہیں کر سکتا اور نہ ان کا احاطہ کر سکتا ہے۔احادیث کی کتب میں حضرت عائشہؓ سے ایک قول مروی ہے کہ آپ نے فرمایا گان خُلُقَهُ كُلُّهُ فِي القُرآن اس کے ایک معنے تو یہ ہیں جو ہمیشہ کئے جاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام صفات اور تمام خوبیاں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔یعنی قرآن کریم میں جن اخلاق کو سکھایا گیا ہے اُن سب پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے۔لیکن اس کے ایک دوسرے معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اگر تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور خوبیوں کو جمع کرنا چاہو اور اُن کا احاطہ کرنا چاہو تو وہ سب کی سب قرآن کریم میں مل سکتی ہیں۔وہ سب کی سب کسی انسانی تصنیف میں نہیں مل سکتیں۔انسان اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام ، اعمال اور خوبیوں کو گنے گا تو ان میں بہت سی کوتا ہی رہ جائے گی اور جب تم اس کتاب کو دیکھو گے تو کہو گے او ہو! وہ فلاں خوبی بیان