انوارالعلوم (جلد 22) — Page 362
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۶۲ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے مسلمان کس کی تائید میں ہیں۔جماعت کے دوست گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور اُنہوں نے کہا لوگوں پر بڑا اثر ہو ا ہے اور وہ اُس وقت سخت جوش میں ہیں۔شام کو میری تقریرتھی۔میں نے کہا مولوی ثناء اللہ صاحب نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ سچا کون ہے صرف فرق یہ ہے کہ انہوں نے نتیجہ از خود نکال لیا ہے۔اگر نتیجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکلا ہوا ہے تو اچھا ہے۔میں نے کہا مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا ہے کہ مرزا محمود احمد میرے ساتھ کلکتہ چلیں ہم دیکھیں گے کہ راستہ میں پھول کس پر برستے ہیں اور پتھر کس پر پھینکے جاتے ہیں۔میں نے کہا مولوی صاحب نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جس پر پھول پڑیں گے وہ سچا ہو گا۔حالانکہ نتیجہ نکالنا ان کا کام نہیں تھا۔ہم سے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو جہل گزر چکے ہیں۔مولوی صاحب خود بتا دیں کہ مکہ میں پتھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑا کرتے تھے یا ابو جہل کو ؟ اور پھول ابو جہل کو پڑا کرتے تھے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو؟ اور اگر پتھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑا کرتے تھے اور پھول ابو جہل پر ا برسائے جاتے تھے تو نتیجہ ظاہر ہے کہ جس پر پتھر پڑیں گے وہ سچا ہے اور جس پر پھول برسائے جائیں گے وہ جھوٹا ہے۔غرض کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گندی حالت کی وجہ سے اکثریت اُن لوگوں کی ہو جاتی ہے جو دین سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔بداخلاقی اور بے دینی کی ایک روچل پڑتی ہے۔جس طرح اس زمانہ میں احراری ہیں۔انہیں ہزاروں آدمی میٹر ہیں جن میں وہ کھڑے ہو کر نعرے لگاتے ہیں ، جلوس نکالنے کے لئے انہیں ہزاروں لوگ مل جاتے ہیں۔ہماری طرف سے اگر کوئی دھتکارا جاتا ہے تو وہ اسے سٹیج پر کھڑا کر کے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عزت اسی جھوٹ میں ہی ہے اور بظاہر وہ معزز نظر آتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک عزت اُس کو ملتی ہے جو صداقت شعار ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی تعلیم کا پیرو ہوتا ہے اور راستبازوں کے نزدیک بھی وہی سچا ہوتا ہے لیکن اِس دُنیا میں بظاہر جھوٹ بولنے والے مؤیدین کی اکثریت کی وجہ سے اپنے آپ کو معزز سمجھتے ہیں۔ایک دفعہ میرے پاس دیو بند کے دو طالب علم آئے۔انہوں نے کہیں سے یہ سُن لیا