انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 340

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۴۰ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو شخص اسے قبول کرنے سے بچا نہیں۔غیر قو میں جو ہندوستان میں آئی ہیں ان کے اندر تبلیغی جوش نہیں تھا اس لئے انہوں نے چند علاقوں کو فتح کیا ہے۔وہاں کے رہنے والوں میں اسلام کی دشمنی بھی تھی ، اسلامی تعلیم سے منافرت بھی تھی اور پھر ان فاتح اقوام کا سلوک بھی اچھا نہیں تھا لیکن عرب تو اس طرح بچھ جاتا تھا کہ وہ جس ملک میں جاتا اپنے آپ کو حاکم نہیں سمجھتا تھا بلکہ لوگوں کا خادم سمجھتا تھا نتیجہ یہ ہوتا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی سارے کا سارا ملک مسلمان ہو جاتا۔پس اگر اُس زمانہ میں ہندوستان کو فتح کر لیا جاتا تو یقیناً آج ہندوستان ، ایران اور مصر کی طرح ایک مسلمان ملک ہوتا کیونکہ وہ لوگ عربوں کا نمونہ دیکھتے تھے۔اُن کی خدمت اور حسن سلوک کو دیکھتے تھے ، اُن کی دیانت اور راست بازی کو دیکھتے تھے اور ان اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ان کے سامنے عرب یا غیر عرب کا سوال نہیں ہوتا تھا بلکہ صرف سچائی کا سوال ہوتا تھا جس کے بعد بغض اور کینے آپ ہی آپ مٹ جاتے ہیں۔تمہارے باپ دادا کے یہ حالات سوائے تاریخ کے تمہیں اور کس ذریعہ سے معلوم ہو سکتے ہیں۔یہی چیز ہے جو تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہے ورنہ محض دو دو نے چار سے یعنی دو کو دو سے ضرب دی جائے تو چار حاصل ہوتے ہیں تمہیں کیا نفع حاصل ہو سکتا ہے۔لیکن اگر تم تاریخ پڑھو اور تم ذرا بھی عقل رکھتی ہو ذرا بھی جستجو کا مادہ اپنے اندر رکھتی ہو تو تمہاری زندگی ضائع نہیں ہوسکتی۔مضمون تو میں نے اور شروع کیا تھا مگر میں رو میں بہہ کر کہیں کا کہیں چلا گیا اور میں کہ یہ رہا تھا کہ کبھی زمانہ بدلتا ہے اور لوگ اس کے ساتھ بدلتے چلے جاتے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ زمانوں کو بدل دیتے ہیں۔مسلمان وہ قوم تھی جو زمانے کے ساتھ نہیں بدلی بلکہ زمانے کو اس نے اپنے ساتھ بدل دیا اور وہ جہاں جہاں گئے انہوں نے لوگوں کو اپنے اخلاق کی نقل پر مجبور کر دیا۔اپنے لباس کی نقل پر مجبور کر دیا ، اپنے تمدن کی نقل پر مجبور کر دیا اور وہ دُنیا کے اُستاد اور راہنما تسلیم کئے گئے۔آج مسلمان عورت یورپ کی بے پردگی کی نقل کر رہی ہے حالانکہ کبھی وہ زمانہ تھا کہ مسلمان عورتوں کے پردہ کو دیکھ کر یورپ کی عورتوں نے پردہ کیا۔چنانچہ ننوں (NUNS) کو دیکھ لو۔