انوارالعلوم (جلد 22) — Page 336
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۳۶ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو انہوں نے اپنی جیب میں سے رومال نکالا اور اُس میں بلغم کھو کا اور پھر کہا بخ بخ ابو ہریرہ ! یعنی واہ واہ ابو ہریرہ ! کبھی تو فاقوں سے بے ہوش ہو جایا کرتا تھا اور آج تو کسری کے اس رومال میں تھوک رہا ہے جسے بادشاہ تخت پر بیٹھتے وقت اپنی شان دکھانے کے لئے خاص طور پر اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا۔لوگوں نے کہا یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا میں آخری زمانہ میں مسلمان ہو ا تھا میں نے اس خیال سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں لوگوں نے بہت کچھ سُن لی ہیں اور اب میرے لئے بہت تھوڑا زمانہ باقی ہے یہ عہد کر لیا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ سے نہیں ملوں گا سارا دن مسجد میں ہی رہوں گا تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی باہر تشریف لائیں میں آپ کی باتیں سُن سکوں۔کچھ دن تو میرا بھائی مجھے روٹی پہنچا تا رہا آخر اُس نے روٹی پہنچانی چھوڑ دی اور مجھے فاقے آنے لگے اور بعض دفعہ سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا اور بھوک کی شدت کی وجہ سے میں بے ہوش ہو کر گر جاتا تھا لوگ یہ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے اور عربوں میں یہ رواج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دورہ ہوتا تو اُس کے سر پر جو تیاں مارا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ مرگی کا علاج ہے۔جب میں بے ہوش ہوتا تو میرے سر پر بھی وہ جو تیاں مارنا شروع کر دیتے حالانکہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہوتا تھا۔اب گجا وہ حالت اور گجا یہ حالت کہ ایران کا خزانہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور اموال تقسیم ہوئے تو وہ رومال جو شاہ ایران تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا وہ میرے حصہ میں آیا۔مگر ایران کا بادشاہ تو آرائش کے لئے اس رومال کو اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا اور میرے نزدیک اس رومال کی صرف اتنی قیمت ہے کہ میں اس میں اپنا بلغم تُھوک رہا ہوں ھے سوائے تاریخ کے کون سی چیز ہے جو تمہیں اپنے آباء کے ان حالات سے واقف کر سکتی ہے اور تمہیں بتا سکتی ہے کہ تم کیا تھے اور اب کیا ہو۔کسی ملک میں مسلمان عورت نکل جاتی تھی تو لوگوں کی مجال تک نہیں ہوتی تھی کہ وہ اُس کی طرف اپنی آنکھ اُٹھا سکیں۔آجکل ربوہ کی گلیوں میں احمدی عورتیں پھرتی ہیں تو ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ باہر کا کوئی