انوارالعلوم (جلد 22) — Page 335
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۳۵ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو میں واپس چلے جاؤ۔مسلمان کمانڈر نے کہا اے بادشاہ! یہ جو تم کہتے ہو کہ ہماری قوم گوہ تک کھانے والی تھی اور ہم غربت اور ناداری میں اپنے ایام بسر کر رہے تھے یہ بالکل درست ہے۔ایسا ہی تھا مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا۔خدا تعالیٰ نے ہم میں اپنا ایک رسول بھیجا اور اُس نے ہم کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور ہم نے اُسے قبول کر لیا۔تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم روپوؤں کے لئے نکلے ہیں؟ مگر ہم روپوؤں کے لئے نہیں نکے تمہاری قوم نے ہم سے جنگ شروع کی ہے اور اب ہماری تلوار میں تبھی نیام میں جائیں گی جب یا تو کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو جاؤ گے اور یا پھر مسلمانوں کے باجگزار ہو جاؤ گے اور ہمیں جزیہ ادا کرو گے۔ایران کا بادشاہ جو اپنے آپ کو نصف دُنیا کا بادشاہ سمجھتا تھا وہ اس جواب کو برداشت نہ کر سکا اُسے غصہ آیا اُس نے چوبدار سے کہا جاؤ اور ایک بورے میں مٹی ڈال کر لے آؤ۔وہ بوری میں مٹی ڈال کر لے آیا تو اس نے کہا کہ یہ بوری اس مسلمان سردار کے سر پر رکھ دو اور اسے کہہ دو کہ میں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں اور سوائے اس مٹی کے تمہیں کچھ اور دینے کے لئے تیار نہیں۔وہ مسلمان افسر جس کی گردن ایران کے بادشاہ کے سامنے نہیں جھکی تھی اِس موقع پر اُس نے فوراً اپنی گردن جھکا دی ، پیٹھ پر بوری رکھی اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آجاؤ۔بادشاہ نے خود ایران کی زمین ہمارے سپر د کر دی ہے۔مشرک تو وہمی ہوتا ہے بادشاہ نے یہ سُنا تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان لوگوں کو جلدی پکڑ و مگر وہ اُس وقت تک دُور نکل چکے تھے۔ہے اُنہوں نے کہا اب یہ پکڑی جانے والی مخلوق نہیں ہے۔پھر وہی بادشاہ جس نے یہ کہا تھا کہ میں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں وہ میدان چھوڑ کر بھاگا ، پھر ملک چھوڑ کر بھاگا اور شمالی پہاڑوں میں جا کر پناہ گزین ہو گیا اور اس کے قلعے اور محلات اور خزانے سارے کے سارے مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ابو ہریرہ وہ غریب ابو ہریرہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سارا دن بیٹھے رہنے کے خیال سے کوئی گزارہ کی صورت پیدا نہیں کرتا تھا اور جسے بعض دفعہ کئی کئی دن کے فاقے ہو جایا کرتے تھے۔ایک دن وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہیں کھانسی اُٹھی