انوارالعلوم (جلد 22) — Page 334
انوار العلوم جلد ۲۲ اور ۳۳۴ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو ور تنقم کا ہر قسم کا سامان اس کے ساتھ تھا ، نہایت قیمتی قالین بچھے ہوئے تھے ، نہایت اعلیٰ درجے کے کا وچ اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں اور بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا کہ مسلمان سپاہی آپہنچے۔سپاہیوں کے پاؤں میں آدھے چھلے ہوئے چمڑے کی جوتیاں تھیں جو مٹی سے آئی ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے۔جس وقت وہ دروازے پر پہنچے چوبدار نے آواز دی کہ بادشاہ سلامت کی حضوری میں تم حاضر ہوتے ہو اپنے آپ کو ٹھیک کرو۔پھر اس نے مسلمان افسر سے کہا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس قسم کے قیمتی قالین بچھے ہوئے ہیں تم نے اپنے ہاتھوں میں نیزے اُٹھائے ہوئے ہیں اِن نیزوں سمیت قالینوں پر سے گز رو گے تو ان کو نقصان پہنچے گا۔اس مسلمان افسر نے کہا تمہارے بادشاہ نے ہم کو بلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔اگر ملنے کی احتیاج ہے تو اُس کو ہے ہمیں نہیں۔اسے اگر اپنے قالینوں کا خیال ہے تو اسے کہہ دو کہ وہ اپنے قالین اٹھا لے۔ہم جُوتیاں اُتارنے یا نیزے اپنے ہاتھ سے رکھنے کے لئے تیار نہیں۔اس نے بہتیرا پروٹسٹ کیا اور کہا کہ اندر نہایت قیمتی فرش ہے جو تیاں اُتار دو اور نیزے رکھ دو مگر انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔اس نے ہمیں بلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے نہیں آئے۔غرض اسی حالت میں وہ اندر پہنچے۔وہاں تو بڑے سے بڑا جرنیل اور وزیر بھی زمین بوس ہوتا اور بادشاہ کے سامنے سجدہ کرتا تھا مگر یہ تنی ہوئی چھاتیوں اور اُٹھی ہوئی گردنوں کے ساتھ وہاں پہنچے۔بادشاہ کو سلام کیا اور پھر اُس سے پوچھا کہ بادشاہ تم نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟ بادشاہ نے کہا کہ تمہارا ملک نہایت جاہل پست ، در ماندہ اور مالی تنگی کا شکار ہے اور پھر عرب وہ قوم ہے کہ جو گوہ تک (ایک ادنیٰ جانور ہے ) کھاتی ہے وہ عمدہ کھانوں سے نا آشنا ہے، عمدہ لباس سے نا آشنا ہے اور بھوک اور افلاس نے اسے پریشان کر رکھا ہے۔معلوم ہوتا ہے اس تنگی اور قحط کی وجہ سے تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ ہم دوسرے ملکوں میں جائیں اور ان کو لوٹیں۔میں تمہارے سامنے تمہاری اس تکلیف کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ تمہارا جتنا شکر ہے اس میں سے ہر سپاہی کو میں ایک ایک اشرفی اور ہر افسر کو دو دو اشرفیاں دے دوں گا۔تم یہ روپیہ لو اور اپنے ملک