انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 333

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۳۳ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو اور در گھلے بندوں اسلام میں شامل نہیں تھے۔غرض مردم شماری کی گئی اور سات سو کی آبادی نکلی۔وہ صحابہ جن کے سپرد یہ کام تھا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مسلمانوں کی آبادی سات سو نکلی ہے پھر انہوں نے کہا يَا رَسُول اللہ ! آپ نے مردم شماری کا حکم کیوں دیا تھا ؟ کیا آپ کو یہ خیال آیا کہ مسلمان تھوڑے ہیں؟ یا رَسُول اللہ ! اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں اب ہمیں دُنیا سے کون مٹا سکتا ہے۔آج کہا جاتا ہے کہ مسلمان ساٹھ کروڑ ہیں لیکن ان ساٹھ کروڑ کا دل اتنا مضبوط انہیں جتنا اُن سات سو کا دل مضبوط تھا۔آخر یہ تفاوت جو دلوں کے اندر ہے تمہیں اس کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے بغیر تاریخ کے مطالعہ کے۔ایک ایک مسلمان نکلتا تھا اور دُنیا کی طاقتیں اُس کے سامنے جھک جاتی تھی۔وہ نقال نہیں تھا بلکہ خود اپنی ذات میں اپنے آپ کو آدم سمجھتا تھا۔وہ یقین رکھتا تھا کہ دُنیا میری نقل کرے گی میرا کام نہیں کہ میں اس کی نقل کروں۔تم اگر تاریخ پڑھو تو تمہیں پتہ لگے گا آج تم ہر بات میں یورپ کی نقل کر رہی ہو۔تم بعض دفعہ کہہ دیتی ہو فلاں تصویر میں میں نے ایسے باغ دیکھے تھے اُف جب تک میں بھی ایسے بال نہ بنالوں مجھے چین نہیں آئے گا۔فلاں پاؤڈر نکلا ہے جب تک اُسے خرید نہ لوں مجھے قرار نہیں آئے گا۔اس کے معنی یہ ہیں کہ تم سمجھتی ہو کہ تمہارا دشمن بڑا ہے اور تم چھوٹی ہو۔اگر تم بڑی ہو تو اُس کا کام ہے کہ وہ تمہاری نقل کرے اور اگر وہ بڑا ہے تو پھر تمہارا کام ہے کہ تم اُس کی نقل کرو۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسلامی لشکر ایران کے ساتھ ٹکر لے رہا تھا کہ بادشاہ کو خیال آیا کہ یہ عرب ایک غریب ملک کے رہنے والے بھو کے ننگے لوگ ہیں اگر ان کو انعام کے طور پر کچھ روپیہ دے دیا جائے تو ممکن ہے کہ یہ لوگ واپس چلے جائیں اور لڑائی کا خیال ترک کر دیں چنانچہ اُس نے مسلمانوں کے کمانڈر انچیف کو کہلا بھیجا کہ اپنے چند آدمی میرے پاس بھیجوا دیئے جائیں میں اُن سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔جب وہ ملنے کے لئے آئے تو اُس وقت بادشاہ بھی اپنے دارالخلافہ سے نکل کر کچھ دُور آگے آیا ہوا تھا اور عیش