انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 312

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۱۲ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو باپ دادا کی ناک کاٹ دی ہے۔اُس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور کہا ماں ! میں نے اپنے باپ دادا کی ناک کاٹی نہیں بلکہ کٹی ہوئی ناک جوڑ دی ہے۔یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا اور ایک کمرہ میں داخل ہو گیا اور اُس کا دروازہ بند کر دیا۔سارا خاندان اُس کا دشمن ہو گیا۔وہ اُس کمرہ سے باہر نہ نکلا یہاں تک کہ ۴۰ دن بعد اُسی کمرہ میں وہ فوت ہو گیا۔وہ اسلامی تاریخ کا ایک شاہکار تھا۔وہ اسلامی تأثیر کا ایک جوہر تھا جو لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔لوگ بادشاہت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ذلیل ہوتے ہیں لیکن اُس نے بادشاہت کو چھوڑا اور ذلیل ہوا۔وہ اس لئے ذلیل ہوا کہ جو مال اُس کے باپ نے چرایا ہو ا تھا اُسے پھینکنے کے لئے اُس نے لڑائی کی۔غرض ایثار بہت بڑی چیز ہے اور اس کے بغیر قو میں نہیں بنتیں۔جن لوگوں میں ایثار نہیں پایا جاتا اور وہ ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ یہ میرا حق تھا، یہ میرا حق تھا وہ اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ قوم نہیں بناتے۔قوم وہ لوگ بناتے ہیں جنہیں یقین ہو جاتا ہے کہ یہ ہمارا حق ہے لیکن پھر بھی اپنا حق دوسرے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔مگر یا درکھو عزت نفس بھی ضروری چیز ہے۔دوسرے کے سمانے لجاجت کرنا اور اُس کی منت خوشامد کرنا نیکی پیدا نہیں کرتا۔نیکی اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب دشمن دیکھتا ہے کہ ہم میں غیرت موجود ہے اور غیرت کی وجہ سے ہم اُس کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں لیکن پھر بھی ہم اپنا حق چھوڑ دیتے ہیں اس سے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔لیکن اگر تم اصرار کرتے ہو تو وہ سمجھے گا یہ ایثار نہیں بلکہ اس میں اس کا کوئی فائدہ مخفی ہے۔چوتھی چیز اخلاق میں مطمح نظر کا اونچا کرنا اور اسے اونچا کرتے چلے جانا ہے۔جب کبھی انسان کسی کام کے لئے اُٹھتا ہے تو اُس کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔یا تو وہ کامیاب ہوتا ہے یا نا کام ہوتا ہے۔جب وہ ناکام ہوتا ہے تو اس کا کام باقی ہوتا ہے اور وہ اس کو پورا کرنے کے لئے دوبارہ کوشش کرتا ہے۔اگر وہ پھر نا کام ہوتا ہے تو وہ سہ بارہ کوشش کرتا ہے۔لیکن اگر وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ اپنی جگہ پر پہنچ جاتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساکن ہو جاتا ہے اور جب وہ ساکن ہو جاتا ہے تو تنزل کی طرف چلا جاتا ہے۔