انوارالعلوم (جلد 22) — Page 308
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۰۸ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو لگائیں اور پر ایک ہی سمت کو چلیں۔اسی طرح وہی افراد قومی حصہ بن سکتے ہیں جن کے اندر قومی کیریکٹر پایا جائے اور بہترین قومی کیریکٹر ایثار ہے۔ایثار کے معنی ہیں دوسروں کو اپنے اوپر مقدم کرنا۔جب کسی قوم کے افراد دوسروں کو اپنے اوپر مقدم کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قوم کے لئے مفید وجود بن جاتے ہیں۔اور جب کوئی فرد صرف اپنے حق کے حصول میں لگا رہے اور دوسرے کے لئے اپنے حق کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوتو وہ قوم کے لئے مفید وجود نہیں بن سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ایثار استعمال کر کے مسلمانوں کو ایک غیر متناہی جھگڑے سے بچالیا ہے۔اگر آپ یہ فرماتے کہ تم دوسروں کا حق نہ مارو ہاں اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ کوشش کرو تو بہت سے لوگ لوٹ کھسوٹ کا نام ہی حق سمجھ لیتے اور کہتے کہ یہ ہمارا حق ہے اس لئے ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی ہوشیاری سے دوسرے کا حق مار لیتے۔ایک جلسہ پر میں نماز پڑھانے لگا۔عموماً لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ نماز میں میرے ساتھ کھڑے ہوں۔سیٹھ غلام غوث صاحب مرحوم جو حیدر آباد دکن کے رہنے والے تھے نہایت مخلص احمدی تھے۔ان کے بیٹے سیٹھ محمد اعظم صاحب بھی نہایت مخلص نوجوان ہیں اور جماعت حیدر آباد دکن کے سیکرٹری مال ہیں۔سارا خاندان ہی مخلص ہے۔ان کا وطن قادیان سے ہزار بارہ سو میل کے فیصلہ پر ہے۔وہ جب جلسہ پر آتے تو نماز میں میرے ساتھ کھڑے ہوتے تا کہ انہیں دعائیں کرنے کا زیادہ موقع مل سکے۔اس جلسہ کے موقع پر بھی وہ میرے ساتھ کھڑے تھے کہ گجرات کے ایک احمدی آگے بڑھے اور انہیں پیچھے دھکیل کر کہنے لگے آپ لوگوں کو تو یہ موقع روز ملتا ہے ہم لوگ دُور سے آتے ہیں ہمیں بھی حضور کے ساتھ کھڑا ہونے کا موقع دیں۔اب گجرات قادیان سے ۷۰ ۸۰ میل پر واقع ہے اور حیدر آباد (دکن) اور قادیان کے درمیان ہزار بارہ سو میل کا فاصلہ ہے لیکن اُنہوں نے بغیر تحقیقات کے اسے اپنا حق کی سمجھ لیا۔پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے کہ اپنا حق لو، دوسرے کا حق نہ لوتو