انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 307

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۰۷ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو آئے تھے۔گو بارش کی وجہ سے وہ قادیان پہنچ نہ سکے۔گویا اُس وقت سے ان کے والد کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلقات تھے۔مرہم عیسی صاحب پیغا می تو ہو گئے لیکن اُن کو مجھ سے ہمیشہ اُنس رہا۔اعتراضات بھی کرتے تھے لیکن پرانی محبت کی وجہ سے انہوں نے تعلقات میں فرق نہیں آنے دیا۔میں سفر پر کہیں جا تا تو عموماً یہ میرے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ایک دفعہ فیروز پور میں میری تقریر ہوئی۔مرہم عیسی صاحب بھی وہاں آ پہنچے۔وہ مولوی صاحب جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں وہ بھی وہیں تھے۔میری طبیعت خراب تھی۔جو نظارہ مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ میں لیٹا ہوا تھا کہ مرہم عیسی صاحب نے اعتراضات کرنے شروع کر دیئے۔میں نے انہیں کہا مولوی صاحب سے بات کریں۔مرہم عیسی صاحب نے اعتراض کیا۔مولوی صاحب نے جواب دیا۔انہوں نے پھر اعتراض کیا جس کا مولوی صاحب نے کچھ جواب دیا لیکن مرہم عیسی صاحب نے پھر اعتراض کیا۔اس کا جواب دینے پر وہ مولوی صاحب کہنے لگے تو بڑا چالاک ہے تینوں گلاں بڑیاں آندیاں ہیں۔آخر اس کام کو مجھے خود سنبھالنا پڑا اور میں نے مرہم عیسی صاحب سے کہا کہ آپ ادھر آئیں اور مجھ سے بات کر یں۔پس اگر علم آتا ہے تو اس کا استعمال کرنا بھی ضروری ہے اور استعمال کا وقت ۱۵، ۱۶ سال کی عمر میں شروع ہو جاتا ہے لیکن جو طریق اب جاری ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم ۲۵ ، ۳۰ سال کی عمر میں میدانِ عمل میں گودے۔جنگ میں ۱۵، ۱۶ سال کا ایک ریکروٹ لیا جاتا ہے لیکن ہمارا نو جوان ۲۵ ۳۰ سال کی عمر میں جا کر اگر سپاہی بنے گا تو اس نے لڑنا کیا ہے۔تیسری چیز ایثار ہے۔پہلی وہ چیزیں ایسی تھیں جو ذاتی خوبیاں تھیں لیکن جب قومی طور پر کام کرنا پڑتا ہے اُس وقت اگر وہ ایسا نہ بنے کہ ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر سکے تو اس کے لئے دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے اور وہ قوم کے لئے مفید وجود نہیں بن سکتا۔اگر گاڑی کے دو گھوڑے اکٹھا زور نہ لگائیں بلکہ ان میں سے ایک ایک طرف زور لگائے اور دوسرا دوسری طرف تو گاڑی چل نہیں سکتی بلکہ گاڑی ٹوٹ جائے گی۔گاڑی کو چلانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں جانور ایک ساتھ زور