انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 306

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۰۶ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ۱۷ ، ۱۸ سال ہو گئے کہ ہم وفات مسیح پر زور دے رہے ہیں لیکن ابھی تک جماعت کے بعض لوگ یہ نہیں سمجھے کہ یہ کیا مسئلہ ہے۔وہ وفات مسیح کی ایک آیت لے لیں گے لیکن بیان کرتے وقت اُلٹ دلیل دے دیں گے مثلاً آپ فرماتے ہیں کہ یعيْسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ الي و مُطَيرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إلى يَوْمِ القِيمة کی آیت سے لوگ اس بحث میں پڑے رہتے ہیں کہ توفی کے کیا معنے ہیں حالانکہ یہاں توفی کے معنوں کا سوال نہیں۔سوال مقام کا ہے۔کوئی مقام سمجھ لو سوائے وفات کے معنوں کے اور کوئی معنے لگ نہیں سکتے۔اور معنے کرنے میں ہمیں آیت کے الفاظ کو آگے پیچھے کرنا پڑے گا۔ہمارے دعوی کی بنیاد ایک تو یہ آیت ہے اور ایک آیت سورہ مائدہ کے آخر میں آتی ہے لیکن جو لوگ علم سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔وہ لفظی معنوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ہمارے ایک عالم تھے جو غیر احمدیوں میں بھی بڑے عالم سمجھے جاتے تھے لیکن انہیں علم کو استعمال کرنا نہیں آتا تھا۔ایک جگہ وفات مسیح پر بحث ہو گئی۔دوست انہیں لے گئے دوسرے عالم نے کہا قرآن کریم سے وفات مسیح ثابت نہیں ہوتی تو اُنہوں نے کہا قرآن کریم میں تھیں آیات ہیں جن سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے۔اُس نے کہا پھر ثابت کرو۔انہوں نے ایک آیت پڑھی۔مخالف نے اس پر اعتراض کیا بجائے اس کے کہ وہ اس اعتراض کا جواب دیتے انہوں نے کہا اچھا اسے چھوڑ و دوسری آیت لو۔پھر دوسری آیت پڑھی۔مخالف مولوی نے اس پر بھی اعتراض کیا تو اُنہوں نے کہا اچھا اسے بھی چھوڑ دو یہاں تک کہ ۳۰ کی ۳۰ آیات ختم ہو گئیں۔حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی جو لاہور کے ایک پرانے احمدی خاندان کے فرد ہیں جن کے گھروں کے پاس اب ہماری جامع مسجد بنی ہوئی ہے شروع شروع میں غیر مبائع ہو گئے۔ان کے والد بہت پرانے احمدی تھے۔میری عقیقے پر بھی وہ قادیان