انوارالعلوم (جلد 22) — Page 301
انوار العلوم جلد ۲۲ ٣٠١ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو لگاتے تو ہم پھل کہاں سے کھاتے ؟ اُنہوں نے درخت لگائے اور ہم نے پھل کھایا اب ہم یہ درخت لگائیں گے تو آنے والی نسل اس کا پھل کھائے گی۔اس بادشاہ کی عادت تھی کہ جب اسے کوئی بات پسند آتی تو وہ کہتا زہ اور خزانچی کو حکم تھا کہ جب وہ کسی کام پر زہ کہے تو وہ تین ہزار دینار کی تحصیلی بطور انعام اسے دے دے۔بادشاہ نے اس بوڑھے کے جواب پر کہا ”زہ اور خزانچی نے تین ہزار دینار کی تحصیلی فوراً بوڑھے کے سامنے رکھ دی اور کہا بادشاہ سلامت کو آپ کی بات بہت پسند آئی ہے اور اُنہوں نے آپ کو یہ رقم بطور انعام دی ہے۔بوڑھے نے ہنس کر کہا۔بادشاہ سلامت ! آپ نے تو کہا تھا۔بوڑھے تم کیا کر رہے ہو اس کا تمہیں کیا فائدہ؟ لوگ جلدی جلدی پھل دینے والے درختوں کا پھل بھی ایک عرصہ کے بعد کھاتے ہیں لیکن میں نے تو اس درخت کا پھل اسے لگاتے ہی کھا لیا۔بادشاہ کو یہ بات پھر پسند آئی اور اس نے کہا ”زہ “ اور خزانچی نے تین ہزار دینار کی ایک اور تھیلی اس بوڑھے کے سامنے رکھ دی۔بوڑھا ہنسا اور اس نے کہا بادشاہ سلامت ! اور لوگ تو جلد سے جلد پھل دینے والے درخت کا پھل سال میں ایک دفعہ کھاتے ہیں اور میں نے اس درخت کا پھل چند منٹوں میں دو دفعہ کھا لیا۔بادشاہ نے کہا ”زہ اور خزانچی نے تین ہزار دینار کی ایک اور تھیلی اس بوڑھے کے سامنے رکھ دی۔پھر بادشاہ نے خزانچی سے کہا یہاں سے جلدی چلو ورنہ یہ بوڑھا تو ہمارا سارا خزانہ ٹوٹ لے گا۔دنیا میں یہی طریق ہوتا ہے کہ اگلا شخص نیچے کی طرف حرکت کرتا ہے لیکن ہمارے کی ہاں ایسا نہیں ہوتا۔نو جوان جونکوں کی طرح والدین کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ خود کھا ئیں۔اپنے والدین کو کھلا ئیں اور اپنی اگلی نسل کا خیال رکھیں۔اس کے بالمقابل یورپ کے لوگ پندرہ پندرہ سولہ سولہ سال کی عمر میں اپنی کی زندگیاں بدل لیتے ہیں۔ایک دفعہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے مجھے سُنایا کہ میں امریکہ گیا۔اُن دنوں کی صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی مرحوم وہاں تھے۔اُنہوں نے ایک لڑکے کو میرے ساتھ لگا