انوارالعلوم (جلد 22) — Page 290
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۰ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو بہت سی مفید باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی چونکہ میرے پاس امتحان کا کوئی ذریعہ موجود نہیں اس لئے میں نہیں جانتا کہ میری نصائح کا کیا اثر ہوا اور عمل میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی اور جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ پہلی نصائح کا کیا اثر ہوا اور ان کے نتیجہ میں اعمال میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی۔اُس وقت تک مزید نصائح کی طرف انسان کی توجہ کم ہوتی ہے اور مزید نصائح چنداں مفید بھی نہیں ہوتیں بلکہ بسا اوقات نصائح کی زیادتی قوم کی سستی اور غفلت کا موجب ہو جاتی ہے۔کیونکہ جو چیز بار بار سامنے آتی ہے، جہاں وہ بار بار بیداری پیدا کرنے کا موجب ہو جاتی ہے وہاں بعض دفعہ وہ اپنی کثرت کی وجہ سے غفلت کا موجب بھی ہو جاتی ہے۔پس میں نہیں سمجھتا کہ نو جوانوں میں نئی نصائح کے متعلق کیا کیفیت پیدا ہوئی ہے۔کیونکہ میں اس حقیقت سے ناواقف ہوں کہ میری پہلی نصائح نے کیا اثر کیا تھا۔بہر حال نتیجہ کا پیدا نہ ہونا جہاں ایک صحیح رائے قائم کرنے سے انسان کو محروم کر دیتا ہے وہاں اس بات کا کافی موجب نہیں ہوتا کہ نصائح کے سلسلہ کو ترک کر دیا جائے۔اس لئے میں نئے سال کے لئے جماعت کے نوجوانوں کو اختصار کے ساتھ چند امور کی طرف توجہ دلا دیتا ہوں۔جو نصائح کی جاسکتی ہیں وہ تو سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ہوں گی اور پھر وہ مختلف حالات میں بدلتی بھی رہتی ہیں مگر اس زمانہ میں سب سے بڑی ضرورت سچائی کی ہے۔انبیاء نے اس پر خاص زور دیا ہے اور انسانی اخلاق کا یہ ایک بنیادی حصہ ہے۔سچائی اور راستی پر کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب اس کی ضرورت نہ سمجھی گئی ہو بلکہ کفار کے نزدیک بھی یہ چیز بڑی قیمتی سمجھی جاتی تھی اور شاید ہی کسی زمانہ میں اسے ترک کرنا جماعتی اور سیاسی طور پر تسلیم کیا گیا ہو۔مگر اس زمانہ میں سیاسی اور قومی مفاد کے لئے جھوٹ کو جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا بلکہ اسے ایک نہایت ضروری چیز قرار دیا جاتا ہے۔اور یہ مرض کی اس قدر پھیل گیا ہے کہ ہمارے ملک میں لوگ بڑے اطمینان کے ساتھ قسمیں کھا کھا کر جھوٹ بولتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات پر ناراض بھی ہوتے ہیں کہ ہمارے اس جھوٹ کو