انوارالعلوم (جلد 22) — Page 289
انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۲۸۹ اپنے اندر سچائی ،محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اپنے اندر سچائی ،محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ سے خطاب فرموده ۱۲ رفروری ۱۹۵۱ء بمقام ربوه) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وو سال دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ سال ہوتا ہے جو کسی جماعت کی ابتداء یا کسی کام کے جاری ہونے کے وقت سے بارہ مہینے گزرنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور ایک وہ سال ہوتا ہے جو شمسی یا قمری سالوں کے اصول پر شروع ہوتا ہے۔قمری سال تو بدلتا رہتا ہے لیکن شمسی سال ہمیشہ یکم جنوری کو شروع ہوتا ہے۔آج جب مجھ سے خواہش کی گئی کہ میں خدام الاحمدیہ کو سال رواں کے متعلق بعض ہدایات دوں تو میں نے یہ بات مان تو کی لی لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ یہ کونسا سالِ رواں ہے جس کے متعلق مجھ سے بعض نصائح اور ہدایات حاصل کرنے کی خواہش کی گئی ہے اس پر مجھے بتایا گیا کہ مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام چونکہ ۴ فروری کو ہوا تھا اس لئے اس مہینہ سے مجلس خدام الاحمدیہ کے نئے سال کی ابتدا ہوتی ہے۔ورنہ شمسی یا قمری اصول کے مطابق یہ کوئی نیا سال شروع نہیں ہوا۔نصیحت ہمیشہ اس شخص کے لئے مفید اور کارآمد ہوتی ہے جو اُ سے قبول کرتا اور اُس پر عمل کرتا ہے۔باقی لوگوں کے لئے اس کا عدم اور وجود برابر ہوتا ہے۔چند ماہ ہوئے خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع ہوا تھا اور اُس موقع پر میں نے جماعت کے نوجوانوں کو