انوارالعلوم (جلد 22) — Page 281
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۸۱ سیر روحانی (۵) اور کتاب میں موجود نہیں اس قرآن کو ماننے والا مولوی یہ کہتا ہے کہ رازی کے بعد اب کوئی نئی تفسیر نہیں ہو سکتی ، ابن حیان جو مضمون بیان کر چکا اس پر اب اور کوئی مضمون بڑھایا نہیں جا سکتا جس کے معنی یہ ہیں کہ ان بزرگوں کی وفات کے بعد اب نَعُوذُ بالله خدا تعالیٰ کا خزانہ خالی ہو چکا ہے جو معارف اور علوم وہ دے چکا سو دے چکا اب معرفت کی کوئی نئی بات بنی نوع انسان پر نہیں کھل سکتی ، روحانیت کا کوئی نیا را از بنی نوع انسان پر منکشف نہیں ہوسکتا۔گویا وہ دروازہ جسے خدا تعالیٰ نے گھلا قرار دیا تھا اُسے اِن مولویوں نے بند سمجھ لیا اور وہ روحانی انعامات جن کے متواتر نزول کی اُس نے بشارت دی تھی ان کے متعلق انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ ختم ہو چکے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ كُلّ يَوْمٍ هُوَني شان ہم تو ہر روز ایک نئے روپ میں آتے ہیں اور نئی شان کے ساتھ نئے انعامات بنی نوع انسان پر نازل کرتے ہیں۔یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ جس قرآن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے اسی قرآن کے ماننے والے یہ کہتے ہیں کہ جو شخص قرآن کریم کی کوئی نئی تفسیر کرتا ہے وہ گفر اور الحاد کا ارتکاب کرتا ہے حالانکہ یہ کفر نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی کتاب کو ایک زندہ کتاب ثابت کرنے والی خوبی ہے۔یہ اس دعویٰ کا ایک عملی ثبوت ہے جو قر آن کریم نے پیش کیا کہ ہم ہر روز ایک نئی شان میں دنیا پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت جبکہ دنیوی انعامات قرآن ایک زندہ کتاب ہے بہت بڑھ چکے ہیں ضرورت تھی کہ اسی طرح روحانی انعامات کی بھی بارش ہوتی تاکہ دنیا کی طرف راغب لوگ دین داروں کو شرمندہ نہ کر سکتے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ انہی وعدوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں پھر ہمارے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور ہم دنیا میں یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہما را خدا ایک زندہ خدا ہے۔ہماری کتاب ایک زندہ کتاب ہے اور وہ اب بھی اپنے روحانی انعامات جس کو چاہے دے سکتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اُس سے مانگیں۔دینے والا نہیں تھکا تو مانگنے والے اس سے کیوں مایوس ہوں۔