انوارالعلوم (جلد 22) — Page 276
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۷۶ سیر روحانی (۵) قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ وہ اُمّی اور ان پڑھ ہے۔۳۸ دنیوی حکومتوں میں ایک اُمّی کا کوئی مقام نہیں مگر خدا تعالیٰ کا دربار دیکھو کہ اُس نے دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے ایک اُمی کا ہی انتخاب کیا اور فرمایا کہ ہم اس کو وہ علم سکھائیں گے کہ دنیا کے بڑے بڑے آدمی بھی اس کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوں گے۔دیدار عام کی دعوت دیوان عام کی دوسری غرض لوگوں کو بادشاہ کا دیدار عام دینا ہوتی ہے۔بادشاہ دربار میں آ کر بیٹھتے ہیں اور لوگ اُن کے دیدار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ ان کو بادشاہ کے دیکھنے سے کیا مل جاتا ہے؟ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔وہ دیکھتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔مگر اس کی دربار عام میں جو دیدار عام کرایا جاتا ہے اس میں یہ خوبی ہے کہ ادھر انسان کو دیدار حاصل ہوا اور ادھر اس پر چودہ طبق کھل گئے۔اور پھر یہ دیدار وہ ہے جس سے ہر شخص لے سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لا تدركه الأبصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ٣٩ فرماتا ہے ہم یہ جانتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں ہمارے دیدار کی ایک نہ مٹنے والی خواہش پائی جاتی ہے مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تم میں یہ طاقت نہیں کہ اپنی کوشش اور جد و جہد سے ہمارے دیدار سے فیضیاب ہوسکو اس لئے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے خود تم پر جلوہ گر ہوتے ہیں تا کہ تم میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے جو ہمارا دیدار نہ کر سکے۔دنیوی درباروں کے ناقص انتظامات دنیا میں تو جب دیوان عام منعقد کیا جاتا ہے تو اوّل تو سب لوگوں کو اس دربار میں بیٹھنے کے لئے جگہ ہی نہیں ملتی صرف چند سو آدمی اندر بیٹھ سکتے ہیں مثلاً دہلی میں دربار عام منعقد ہوا تو دہلی کے رہنے والے لاکھوں کی تعداد میں تھے مگر دربار کے اندر بیٹھنے والے چار پانچ سو سے زیادہ نہ تھے۔دوسرا طریق بادشاہوں نے یہ مقرر کیا ہو ا ہوتا ہے کہ وہ جھرو کے میں بیٹھ جاتے ہیں اور لوگ ارد گرد کے میدانوں میں جمع ہو کر اُن کا دیدار کرتے ہیں مگر اس طرح بھی زیادہ