انوارالعلوم (جلد 22) — Page 272
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۷۲ سیر روحانی (۵) حکومت امریکہ کا اتنا انتظام نہیں جتنا ایک جاہل سے جاہل آدمی کے دماغ میں خدا تعالیٰ نے انتظام قائم کیا ہوا ہے۔دنیوی حکومتوں کی احسان فراموشی پھر دنیوی حکومتیں وقت پر خدمت لے لیتی ہیں لیکن بعد میں بھول جاتی ہیں اور انہیں خیال بھی نہیں رہتا کہ فلاں شخص نے مصیبت اور تکلیف میں ہماری خدمت سرانجام دی تھی۔ہمارے ایک دوست ہیں مجھے ہمیشہ ان پر ہنسی آیا کرتی ہے لیکن ان کے استقلال کو دیکھ کر تعجب بھی آتا ہے۔انہوں نے گزشتہ جنگ میں کچھ رنگروٹ دیئے تھے افسروں نے انہیں خوب شاباش دی اور انہیں یہ امید پیدا ہو گئی کہ جنگ کے خاتمہ پر میری اس خدمت کے بدلہ مجھے انعام کے طور پر کوئی زمین دیدی جائے گی جب جنگ ختم ہو گئی اور وہ کسی افسر سے ملنے کے لئے جاتے تو بعض دفعہ پیغام آ جاتا کہ ہمیں ملنے کی فرصت نہیں اور بعض دفعہ یہ کہدیا جاتا کہ صاحب بہادر اندر نہیں ہیں۔مگر آدمی ہمت والے تھے انہوں نے چٹھیاں لکھتے لکھتے وائسرائے تک معاملہ پہنچا دیا۔وائسرائے نے اُن کی درخواست پر لکھا ڈیفنس سیکرٹری فوراً کارروائی کرے۔ڈیفنس سیکرٹری نے وہ درخواست گورنر کو بھجوا دی۔گورنر نے کمشنر کے پاس بھجوا دی کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچا دی۔ڈپٹی کمشنر نے ریوینیو آفیسر کے پاس پہنچا دی اور معاملہ پھر وہیں کا وہیں رہا۔انہوں نے پھر اپنی درخواستیں نیچے سے اوپر پہنچانی شروع کیں اور افسروں نے پھر اسی طرح ان کی درخواستیں اوپر سے نیچے بھجوائی شروع کر دیں۔غرض اسی تگ و دو میں ان کے کئی سال گزر گئے مگر انہیں مربع آج تک نہیں ملا بلکہ سیب کا مرتبہ بھی نہیں ملا۔مگر اس گورنمنٹ کو دیکھو کہ یہ بھولی نہیں۔بچپن میں ایک لفظ سیکھا جاتا ہے اور بڑے ہوکر برابر وہ سیکھا ہو ایاد رہتا ہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی چیز سیکھی ہوئی ہو اور پھر وہ دماغ کے کسی گوشے میں محفوظ نہ رہے بلکہ اس حفاظت کا یہ حال ہے کہ فرانس میں ایک دفعہ ایک لڑکی کو دورے پڑنے شروع ہوئے جب اُسے دورہ پڑتا تو وہ جرمن زبان میں بعض مذہبی دعائیں پڑھنا شروع